خطبات محمود (جلد 26) — Page 444
$1945 444 خطبات محمود بہت کمزور تھا۔اُسے جب کبھی قرآن مجید پڑھنے کے لئے کہا جاتا تو وہ یہ کہہ دیتی کیا کروں کوشش تو کرتی ہوں لیکن میرا حافظہ اچھا نہیں اس لئے میں نہیں پڑھ سکتی۔اس کے حافظہ کی یہ حالت تھی کہ صبح کو وہ ایک آیت یاد کرنے لگتی اور شام تک اُسی ایک آیت کو یاد کرتی رہتی۔اتفاق سے اُس کی شادی بھی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو ملاں تھے اور انہیں دین کا شوق تھا۔وہ صبح کے وقت اپنے خاوند سے ایک آیت پڑھ لیتی اور سارا دن اُسے یاد کرتی رہتی۔ایک دن وہ عصر کے وقت مصالحہ پیستی جارہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنا سبق بھی دُہراتی جارہی تھی۔اور وہ سبق یہ تھا۔”جا بھانوں آبھیناں۔جا بھانوں آبیناں۔کسی نے پوچھا یہ کیا کہہ رہی ہو ؟ تو اُس نے جواب دیا میں قرآن مجید یاد کر رہی ہوں۔جب اسے کہا گیا کہ یہ تو قرآن مجید کی آیت نہیں ہے تو اس نے جواب دیا کہ انہوں نے تو مجھے یہی پڑھایا۔اس کی مراد اپنے خاوند سے تھی کہ اُس نے مجھے یہی سبق دیا ہے۔آخر اُن سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اُس کا سبق يَعْلَمُ مَا بَيْنَ 1 تھا جو صبح سے بگڑتے بگڑتے شام تک ” جا بھانوں آبھیناں“ بن گیا۔تو بعض طالب علم کمزور حافظے والے بھی ہوتے ہیں۔جو طالب علم ایسے ہوں گے وہ دس کی بجائے گیارہ یا بارہ سال میں میٹرک کر لیں گے۔لیکن جو اچھے حافظے والے ہیں وہ دس سال میں میٹرک اور چودہ سال میں بی اے کر لیتے ہیں۔اور بچے عام طور پر عمر کے پانچویں یا چھٹے سال سکول میں داخل ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے طالب علم میٹرک پندرہ سولہ سال کی عمر میں اور بی اے انیس بیس سال کی عمر میں اور دینیات کا علم ہمیں اکیس سال کی عمر میں حاصل کر لیتے ہیں۔اور بچوں کا بیس سال تک کا زمانہ ہی آوارہ گردی کا زمانہ ہوتا ہے۔اگر اس پروگرام پر جو میں نے بیان کیا ہے عمل کیا جائے تو طالب علموں پر آوارہ گردی کا زمانہ آہی نہیں سکتا۔طالب علم کے سب فرائض کا خیال رکھا جائے اور والدین حتی الامکان اس کے فرائض پورے کروانے کی کوشش کریں۔اور مدرسین صرف اسی بات کا خیال نہ رکھیں کہ طالب علم اپنی کتابیں لے کر آیا ہے یا نہیں بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ طالب علم وقت پر ورزش کے میدان میں آتا ہے یا نہیں۔وہ سکول سے جا کر گھر پر سٹڈی (Study) کرتا ہے یا نہیں۔اور اگلے سبق کا مطالعہ کر کے لاتا ہے یا نہیں۔اصل میں بعض استاد خود تعلیم میں آوارہ مزاج ہوتے ہیں۔نہ پچھلا سبق پوچھتے