خطبات محمود (جلد 26) — Page 443
$1945 443 خطبات حمود گھنٹے ہوئے۔اور اگر ماں باپ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اُن کا لڑکا مسجد میں باجماعت نماز کے لئے جاتا ہے یا نہیں اور میرے نزدیک اس بات کا خیال نہ رکھنا ایمان کی کمی کی علامت ہے تو پانچوں نمازوں کے لئے اُسے دو گھنٹہ وقت کی ضرورت ہے۔پھر اگر سکول والوں نے اُس کی ورزش کے لئے کھیل کا کوئی انتظام کیا ہے اور کھیل میں اُس کا شامل ہونا ضروری رکھا ہے تو دو گھنٹے اُسے کھیل کے میدان میں آنے جانے اور کھیلنے میں لگ جائیں گے۔یہ گل چودہ گھنٹے ہوئے۔اور بچوں کی صحت کے لحاظ سے ان کے لئے سات گھنٹے کی نیند ضروری ہوتی ہے۔اگر زیادہ سوئیں تو آٹھ گھنٹے کافی ہوتے ہیں اور آدھ گھنٹہ نیند آنے تک اور آدھ گھنٹہ نیند سے بیدار ہونے اور کسی دوسرے کام کو شروع کرنے تک سمجھا جائے۔اور نیند کے لئے بجائے سات کے آٹھ گھنٹے سمجھ لئے جائیں تو آٹھ اور ایک یہ نو گھنٹے ہو گئے اور چودہ اور نوگل تئیس گھنٹے ہو گئے۔باقی ایک گھنٹہ کھانے پینے، پیشاب پاخانہ اور دوسری حاجات کے لئے رہ جاتا ہے۔در حقیقت اس سے بھی زیادہ وقت ان حوائج پر لگ جاتا ہے۔پس طالب علموں کی زندگی کا یہ چوبیس گھنٹے کا پروگرام ہے۔اگر بچوں کا اِس رنگ میں پروگرام ہو تو ناممکن بات ہے کہ انہیں آوارہ گردی کے لئے وقت مل سکے۔اور اگر والدین انہیں اس پروگرام پر عمل کرائیں گے تو انہیں سب کام بھی وقت پر سر انجام دینے کی عادت ہو جائے گی۔اگر ایک طالب علم محنت سے کام کرے اور اپنے وقت کی قدر کرے اور والدین اُس کی نگرانی کا خیال رکھیں تو وہ دس سال میں میٹرک اور چودہ سال میں بی اے پاس کر سکتا ہے۔اور اگر دینیات کی تعلیم حاصل کرے تو آٹھ سال پہلے مڈل پاس کرنے تک اور آٹھ سال جامعہ میں یعنی گل سولہ سال میں دینیات کا علم حاصل کر سکتا ہے۔گو تمام طالب علم دس سال میں میٹرک اور چودہ سال میں بی اے پاس نہیں کر سکتے۔ان میں کئی ایسے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ فیل ہو جاتے ہیں۔بعض طالب علم تو پورے طور پر پڑھائی میں دل نہ لگانے کی وجہ سے اور تعلیم کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی دماغی قوت اچھی نہیں ہوتی اور اُن کا حافظہ کام نہیں کرتا۔باوجو د یاد کرنے کے انہیں یاد نہیں ہو تا۔میں نے اس کے متعلق کئی دفعہ یہ واقعہ سنایا ہے کہ ہمارے ہاں ایک نوکرانی تھی جس کا حافظہ