خطبات محمود (جلد 26) — Page 423
خطبات محمود 423 $1945 کجا یہ اخلاق کا نمونہ کہ صحابہ اپنے دین، اپنے تقویٰ اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے ا کے لئے اپنی بیویوں کو بھی طلاق دے کر اپنے بھائیوں کے سپر د کرنے کے لئے تیار تھے اور کجا ہماری حالت ہے کہ ہم کسی بھائی کو تجارت کا ہنر سکھانے یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔حالانکہ یہ ایک بہت مشکل کام ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ آپ کو آپ کی زندگی میں ہی غلبہ دے دیا جائے گا۔مگر ہمارے لئے یہ پیشگوئی ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد جا کر یہ چیز ہمیں ملے گی۔3 پس آج اُس سے زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے جتنی پہلے زمانہ میں صحابہ نے کیں۔ہمیں اس وقت تجارت کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی زندگیاں وقف کریں۔جو تجربہ کار لوگ ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔باہر کی ایک جماعت نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ ایک غیر احمدی ہمارے ہاں آکر احمدی ہو گیا۔جماعت نے چند سو روپیہ اکٹھا کر کے اُسے دیا تا کہ وہ اس سے تجارت کرے۔پچھلے سال اُس نے ایک ہزار روپے سے زیادہ چندہ دیا ہے۔پس یہ ایسی چیز ہے جس میں کامیابی یقینی ہوتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ کم ہمت اور بے وقوف انسان اس میں ناکام بھی ہوتا ہے۔لیکن باہمت اور عظمند انسان تجارت آسانی سے چلا لیتا ہے۔چاہے گزارے والی تجارت ہو، چاہے لاکھوں روپے والی ہو اور چاہے کروڑوں روپے والی ہو۔بہر حال جہاں احمدی بیٹھ جائے گا وہاں خدا تعالیٰ کے دین کا ایک مبلغ بیٹھ جائے گا۔تجارت اُس کی کامیاب ہو یا نہ ہو مگر تبلیغ اس کی کامیاب ہو جائے گی۔کیونکہ احمدیت کبھی چھپ نہیں سکتی۔مثلاً پہلا سوال نماز کا آئے گا۔اس کے پاس لوگ آئیں گے اور کہیں گے آپ کے آنے پر ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔مسلمان یہاں بہت کم تھے مگر ہم نے آپ کو مسجد میں کبھی نہیں دیکھا۔دیکھو! یہاں سے تبلیغ شروع ہو جائے گی۔وہ کہے گا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والا ہوں اور آپ ان کو نہیں مانتے۔اس لئے میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔وہ پوچھیں گے مسیح موعود کیا ہوتا ہے اس پر وہ بتائے گا حضرت مسیح موعود کا یہ دعویٰ تھا۔وہ اس کا ثبوت پوچھیں گے اور اُسے کہیں گے