خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 33

+1945 33 خطبات محمود گیا تھا۔شیخ صاحب نے مجھے کہا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے اور صلح کا عمدہ موقع ہے ان کے اپنے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے ضرور صلح کر لینی چاہیے۔میں نے کہا شیخ صاحب ! صلح واقعی بہت اچھی چیز ہے میں بھی بہت خوش ہوں گا اگر جھگڑا مٹ جائے۔مگر شیخ صاحب اگر تو جھگڑا کسی دنیوی امر کے بارہ میں ہے تو آپ خواجہ صاحب کو جا کر کہیں کہ وہ جو کچھ بھی لکھ دیں گے میں اُس پر دستخط کر دوں گا اور مان لوں گا۔لیکن اگر اختلاف مذہبی عقائد کا ہے تو چاہے زمین و آسمان ٹل جائیں میں جب تک ایک عقیدہ کو درست سمجھتا ہوں اُسے ہر گز چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں گا۔تو صلح وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے صلح کرا دے۔یوں تو ہمارے پاس کوئی ریاست بھی نہیں لیکن اگر بادشاہتیں بھی ہوں تو ہم ان کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیں گے لیکن وہ عقیدہ ہر گز نہ چھوڑیں گے جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں قائم کیا ہو۔پس میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں۔میں انگلستان کو دعوت دیتا ہوں کہ آؤ اور ہندوستان سے صلح کر لو۔اور میں ہندوستان کو دعوت دیتاہوں کہ جاؤ اور انگلستان سے صلح کر لو۔اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام کے ساتھ دعوت دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کر لو۔اور میں ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک دنیوی تعاون کا تعلق ہے ہم ان کی باہمی صلح اور محبت کے لئے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔اور میں دنیا کی ہر قوم کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔ہم کانگرس کے بھی دشمن نہیں۔ہم ہندو مہاسبھاوالوں کے بھی دشمن نہیں۔مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں۔اور زمیندارہ لیگ والوں کے بھی نہیں اور خاکساروں کے بھی دشمن نہیں۔اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تو احراریوں کے بھی دشمن نہیں ہیں۔ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف ان کی ان باتوں کو برا مناتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں۔اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خدا تعالیٰ کی اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔ساری دنیا سیاسیات میں اُلجھی ہوئی ہے اگر ہم چند لوگ اس سے علیحدہ رہیں اور مذہب کی تبلیغ کا کام کریں تو دنیا کا کیا نقصان ہو جائے گا۔ہم سیاسیات میں ہر گز دخل دینا نہیں چاہتے۔احرار سے ہمارے اختلاف کی بنیاد