خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 34

$1945 34 خطبات حمود تحریک کشمیر ہی تھی۔مگر اس میں میں نے صرف اس لئے حصہ لیا تھا کہ اہل کشمیر انسانی حقوق سے محروم تھے۔لارڈ ولنگڈن نے مجھے کہا کہ آپ کی جماعت مذہبی ہے آپ سیاسیات میں کیوں حصہ لیتے ہیں؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہم سیاسیات میں حصہ نہیں لیتے جب تک اہل کشمیر کا مطالبہ انسانی حقوق حاصل کرنے کا ہے میں اس تحریک میں حصہ لوں گا۔اور جب یہ حقوق ان کو مل گئے تو میں اس میں حصہ لینا چھوڑ دوں گا۔میرے پاس بعض اور ریاستوں کی طرف سے بھی آدمی آئے۔بعض رؤساء کے آپس میں جھگڑے تھے۔بعض کی طرف سے میرے پاس آدمی آئے کہ ہمارے پاس فلاں فلاں سامان موجود ہیں جو ہم آپ کو دیں گے آپ کے کام کرنے والے آدمیوں کے اخراجات بھی دیں گے آپ تحریک چلائیں۔مگر میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ میں تو کفر مار ہوں ریاست مار نہیں ہوں۔میں نے تو کشمیر کی تحریک میں اگر ہاتھ ڈالا ہے تو صرف اس لئے کہ اہل کشمیر ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔جب یہ حقوق ان کو مل گئے تو کسی سیاسی تحریک سے میرا کوئی واسطہ نہ ہو گا۔مگر بعض لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ سیاسیات کے میدان میں آگئے ہیں اور ان کی لیڈریاں خطرہ میں ہیں۔حالانکہ یہ بات نہ تھی۔ہمارا سیاسیات سے کوئی واسطہ نہیں یہ تو صرف ابتدائی انسانی حقوق کے حصول کا سوال تھا جس کے لئے میں نے کشمیر کی تحریک میں حصہ لیا۔اور اہل کشمیر کو بہت سے حقوق مل بھی گئے اور ابھی باقی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ کوئی اور رو چلائے مہاراجہ صاحب خود ہی انصاف سے کام لیتے ہوئے یہ حقوق اپنی رعایا کو دے دیں گے۔ایک تو مذہب کی تبدیلی کا حق ہے جو ملنا چاہیے۔یہ بعض اور ریاستوں میں بھی نہیں۔مگر یہ بہت ہی ناواجب بات ہے یہ گویا حریت ضمیر میں دخل اندازی ہے اور انسانیت کو کچلنے والی بات ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ مہاراجہ صاحب کشمیر خود ہی اپنی نیکی اور صلاحیت کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ حق اپنی رعایا کو دے دیں گے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ وہاں ذبیحہ گاؤ پر بہت شدید سزادی جاتی ہے اس جرم کی جو سزا وہاں مقرر ہے وہ حد سے زیادہ ہے۔اس میں بھی اول تو منسوخی ورنہ کم سے کم نرمی کا پہلو انہیں اختیار کرنا چاہیے۔تا جو لوگ بعض دفعہ مجبوریوں کے ماتحت ایسا کرتے ہیں سخت سزا