خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 323

خطبات محمود 323 $1945 بہر حال جو شخص نمازوں کو وقت پر ادا کرتا ہے وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے۔لیکن جو شخص وقت پر ادا نہیں کرتا اگر وہ ایسی مجبوری کی وجہ سے ادا نہیں کر سکتا جس کی شریعت نے اجازت دی ہے تو وہ دوسری نماز کے ساتھ ملا کر پڑھ سکتا ہے۔مثلاً عصر کے وقت کوئی شخص بیہوش ہو جاتا ہے یا لڑائی میں شامل ہو جاتا ہے اور اسے فرصت نہیں ملتی کہ وہ عصر کی نماز وقت پر پڑھ سکے تو وہ عصر کی نماز مغرب کے ساتھ ملا کر بھی پڑھ سکتا ہے۔عام حالات میں تو یہ جائز نہیں۔لیکن اگر پیدا شدہ روک انسان کے تصرف سے باہر ہو تو یہ طریق مجبوری کی وجہ سے جائز ہو جاتا ہے۔لیکن اگر کسی نے عصر کی نماز بالا رادہ چھوڑ دی ہو اور وہ اسے کسی دوسرے وقت پر ادا کرنے لگا ہو تو یہ اس کے لئے جائز نہیں ہو گا۔اِسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا یہ عقیدہ تھا کہ فوت شدہ نمازوں کی قضا کوئی اسلامی مسئلہ نہیں۔در حقیقت یہ بعض آخری زمانہ کے مسلمانوں کی جماعت تھی کہ وہ بالا رادہ چھوڑی ہوئی نمازوں کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ ہم ان کو دوسرے اوقات میں ادا کر سکتے ہیں۔حالانکہ کوئی نماز بالا رادہ چھوڑی ہوئی نماز کی قائمقام نہیں ہو سکتی۔ہاں اس نماز کی قائمقام دوسرے وقت کی نماز ہو گی جو معذوری اور مجبوری کی وجہ سے چھوٹ گئی ہو اور وہ بھی معذوری اور مجبوری کے دور ہونے کے معا بعد جو نماز کا وقت آئے اُس وقت اگر وہ وقت انسان سستی سے گزار دے تو پھر نماز بھی نہ ہو سکے گی۔غرض وقت پر فرائض ادا کرنا اپنے ساتھ بہت بڑی برکات لا تا اور انسان کو بڑے بڑے فضلوں کا وارث بنادیتا ہے۔ہمارے زمانہ میں آج سے تھیں اکتیس سال پہلے ایک جنگ شروع ہوئی تھی اور آج سے 27 سال پہلے وہ لڑائی ختم ہوئی۔وہ لڑائی 1914ء میں شروع ہوئی تھی اور 1918ء میں ختم ہوئی۔1914ء پر 31 سال گزر گئے ہیں اور 1918ء پر ستائیسواں سال گزر رہا ہے۔یہ لڑائی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا عذاب تھی۔اس جنگ سے پہلے ہی خدا تعالیٰ نے اس بات کا اظہار فرما دیا تھا کہ میں دنیا میں ایک تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہلے سے خبر دے دی تھی کہ ”زار “ اُس وقت تباہ ہو جائے گا۔دنیا پر ایک زبر دست تباہی آئے گی۔اور دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا