خطبات محمود (جلد 26) — Page 319
$1945 319 خطبات محمود اُسے استعمال کرو یہی قانون ہے۔اور جب دنیا کے خیالات اس طرف مائل ہوں گے کہ جنتے زیادہ سے زیادہ خطر ناک ہتھیار ملتے جائیں اُن کو استعمال کرو تو لازماً دنیا میں فساد، جنگ اور خونریزی بڑھے گی۔پس میر ا یہ مذہبی فرض ہے کہ میں اس کے متعلق اعلان کر دوں کو حکومت اسے بُرا سمجھے گی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امن کے رستے میں یہ خطر ناک روک ہے۔اس لئے میں نے بیان کر دیا ہے کہ ہمیں دشمن کے خلاف ایسے مہلک حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو اس قسم کی تباہی لانے والے ہوں۔ہمیں صرف وہی حربے استعمال کرنے چاہئیں جو جنگ کے لئے ضروری ہوں۔لیکن ایسے حربوں کو ترقی دینا اور ایسے حربوں کو استعمال کرنا جن سے عورتوں، بچوں اور اُن لوگوں کو جن کا جنگ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تکلیف پہنچے ہمارے لئے جائز نہیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ خواہ ہماری آواز میں اثر ہو یا نہ ہو حکومت سے کہہ دیں کہ ہم آپ کی خیر خواہی کے جذبہ کی وجہ سے مجبور ہیں کہ اس امر کا اظہار کر دیں کہ ہم آپ کے اس فعل سے متفق نہیں۔اور مجبور ہیں کہ آپ کو ایسا مشورہ دیں جس کے نتیجہ میں آئندہ جنگیں اور فتے بند ہو جائیں۔جہاں میں اس قسم کے حربوں کے استعمال کے خلاف ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اخلاقی طور پر ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت کو بتائیں کہ یہ کام اچھا نہیں وہاں میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی اس بم کی ایجاد سے پوری ہوئی ہے اور آئندہ اور بھی شدت سے اس کے پورا ہونے کا احتمال ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہماری آواز میں اثر تو ہے نہیں کیونکہ نہ ہم سیاست میں بڑے سمجھے جاتے ہیں اور نہ ہم جتھے میں اتنے بڑے ہیں کہ کوئی ہماری آواز کی طرف توجہ کرے اور نہ مذہبی طور پر ان قوموں کا ہم پر ایمان ہے کہ وہ سمجھیں کہ ہمیں ان کی بات مانی چاہیے۔ہم نے تو صرف ایک فرض ادا کیا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور نہ ہی ہم کر سکتے ہیں۔مگر دوسری طرف ہم اس بات کو بھی نہیں بھول سکتے کہ خدائی فیصلہ کس طرح اپنے اپنے زمانہ میں پورا ہو تا چلا آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ ”شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔“ 5 پچھلی بمباریاں جو ہوئی