خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 310

+1945 310 خطبات محمود تھی۔دوسرا شخص جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ماں کی خدمت سب سے اہم کام ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماں کی خدمت کرنے میں کمزور تھا۔اس لئے اُس کو ماں کی خدمت سب سے اہم کام بتایا۔ورنہ آپ کی بات کا یہ مطلب نہ تھا کہ اُس کے لئے جہاد کرنا ضروری نہ تھا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کسی کی مشرقی دیوار میں سوراخ ہو جائے اور وہ انجینئر سے پوچھے کہ اسے مکان کی حفاظت کے لئے کیا کرنا چاہیے ؟ تو انجینئر اسے کہے گا کہ مشرقی دیوار کے سوراخ کو بند کر دو۔اور اگر کسی کا مغربی دیوار میں سوراخ ہو جائے اور وہ انجینئر سے پوچھے گا کہ مکان کی حفاظت کے لئے کیا کرنا چاہیے تو وہ کہے گا مغربی سوراخ کو بند کر دیا جائے۔اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس انجینئر کے کلام میں اختلاف ہے کہ پہلے شخص سے اس نے مشرقی سوراخ کے بند کرنے کے لئے کہا اور دوسرے سے مغربی سوراخ کے بند کرنے کے لئے کہتا ہے۔پس اشخاص کی نوعیت کے بدل جانے سے، اوقات کی نوعیت بدل جانے سے اور مقامات کی نوعیت بدل جانے سے احکام کی نوعیت بھی بدل جایا کرتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس سال کو اہمیت دی ہے۔اگر کوئی شخص کہے کہ پہلے آپ نے فلاں وقت کو بڑا کہا تھا اور فلاں وقت کو آپ نے اہم قرار دیا تھا اور اب آپ اس سال کو اہم قرار دے رہے ہیں۔تو اس کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کوئی آدمی کسی سے راستہ پوچھے تو راستہ بتانے والا اُسے کہے کہ اس راستہ پر چلے جاؤ۔آگے جا کر دائیں طرف مڑ جانا۔پھر بائیں طرف مڑ جانا۔اور کچھ دُور آگے جا کر فلاں جگہ پر دائیں طرف مڑ جانا۔تو اس پر وہ شخص جسے راستہ بتایا گیا ہے اگر کہے کہ آپ عجیب آدمی ہیں پہلے کہتے ہیں دائیں طرف مڑ جانا پھر کہتے ہیں بائیں طرف مڑ جانا پھر کہتے ہیں دائیں طرف مڑ جانا۔آپ کے کلام میں تو بہت اختلاف پایا جاتا ہے تو معترض عجیب دماغ کا ہو گا نہ کہ راستہ بتانے والا۔جس طرح انسانی زندگی میں مختلف موڑ ہوتے ہیں اسی طرح قومی زندگی میں بھی موڑ ہوتے ہیں اور ہر موڑ کو اپنے وقت میں اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ہر موڑ انسان کو نئے رخ پر ڈال دیتا ہے۔وہ رُخ کئی ہو سکتے ہیں۔ہماری جماعت کے لئے ان نئے رُخوں میں سے ایک اہم رخ