خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 269

+1945 269 خطبات محمود شخص خدا تعالیٰ کو پیارا ہے۔اس لحاظ سے اس لفظ کا استعمال ایک سے زیادہ وجودوں کی نسبت درست اور جائز ہو گا۔چنانچہ بائبل میں یہود کی نسبت بھی آتا ہے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کے اور بیٹے ہوں اُس کے کسی بیٹے کو اکلوتا بیٹا نہیں کہہ سکتے۔اور اگر کہیں گے تو اس کے معنے صرف یہ ہوں گے کہ جس طرح ماں باپ کو اپنا اکلوتا بیٹا پیارا ہوتا ہے اُسی طرح وہ شخص خدا تعالیٰ کو پیارا ہے۔اور باوجود اکلوتا بیٹا کہنے کے اس کے معنے یہ نہ ہوں گے کہ وہ اپنی اس صفت میں منفرد ہے۔اور جب منفرد نہ رہا تو الوہیت کا سوال خود حل ہو گیا۔غرض اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ عیسی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے آدم کی مثال۔اللہ تعالیٰ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔پھر کہا اب تو ہو تارہ یعنی تیرے جیسے اور وجود پیدا ہوتے چلے جائیں۔چنانچہ اُس کی نسل چل رہی ہے۔آدم کے بعد اور آدم اس کے بعد اور آدم اور اس کے بعد اور آدم ہوتے چلے جارہے ہیں۔پس يَكُونُ کے یہ معنی نہیں کہ وہ ہو گیا۔یہ معنے عربی زبان کے خلاف ہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ اے آدم ! ہو جا یعنی نسل آدم دنیا میں چلے۔فَيَكُونُ پس آدم کا ظہور ہوتا جارہا ہے۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آدم کسی اور جنس کا تھا اور بیٹا کسی اور جنس کا ہے۔جس طرح کا پہلا آدم تھا اُسی طرح اس کے بعد کا آدم تھا۔اور اسی طرح کا آدم اب بھی ہے۔اس تعدد اور تواتر کی وجہ سے کسی کو شبہ پیدا نہیں ہو تا کہ آدم منفر د وجود تھا اور وہ اپنے اندر خدائی صفات رکھتا تھا۔خواہ وہ بن باپ اور بن ماں کے پیدا ہوا۔لیکن چونکہ اس کی نسل چل رہی ہے اور اس کے مثیل پیدا ہوتے جارہے ہیں جو اس کی جنس سے ہیں اس لئے کسی کو آدم پر خدائی کا شبہ نہ ہوا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسی کے متعلق بھی ہم نے یہی طریق جاری کیا ہے۔یعنی عیسی کو پیدا کر کے کہا کہ تو ہو جا پس وہ ہو تا جا رہا ہے۔یعنی عیسوی وجود بار بار پیدا ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔پھر اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آدم باوجود دوسرے آدمیوں کا باپ ہونے کے ان سب سے درجہ میں بڑا نہیں۔حضرت آدم سے حضرت نوع درجہ میں بڑے تھے، حضرت ابراہیم حضرت آدم سے بڑے تھے۔اسی طرح حضرت موسی حضرت آدم سے بڑے تھے۔اور آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف