خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 15

خطبات محمود 15 $1945 آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میر ابھائی بہن اور ماں ہے۔“ اور صحیح بات بھی یہی ہے کہ آپ جس کام کے لئے مبعوث ہوئے تھے وہ انہی سے وابستہ تھا جن کو وہ اس وقت تعلیم دے رہے تھے۔اسی طرح جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کام کے چلانے والے ہیں وہی آپ کی عترت ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں دو چیزیں اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہوں۔جو ثقلان ہیں یعنی بوجھ ہیں۔ایسے بوجھ کہ جب تک وہ رہیں گے دین آسمان پر نہ جائے گا۔یہ دو بوجھ ہوں گے جو دین کو زمین پر رکھیں گے جب یہ دونوں بوجھ اُٹھ جائیں گے اسلام بھی آسمان پر چلا جائے گا۔جب مسلمانوں میں سے قرآن کریم کا مفہوم اُڑ گیا اور جب عترت اُڑ گئی تو اسلام بھی اُڑ کر آسمان پر چلا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے دوبارہ دنیا میں لائے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لو گان الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّنْ هَؤلاء - 10 اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گاجب مسلمانوں میں نہ قرآن رہے گا اور نہ میری عترت۔یہ دونوں ایسے بوجھ ہیں جن کی وجہ سے ایمان زمین پر رہ سکتا ہے ورنہ ایمان ایسی ہلکی چیز ہے کہ جب یہ بوجھ نہ رہیں گے تو وہ بھی نہ رہ سکے گا۔جب یہ بوجھ اُٹھ جائیں گے اسلام بھی اُٹھ جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوبارہ اسے دنیا میں لائے ہیں۔مگر جو پہلے اُڑ کر آسمان پر چلا گیا تھا اب بھی جاسکتا ہے اور جن دو چیزوں نے پہلے اسے دبایا تھا وہی اب بھی دبا کر رکھ سکتی ہیں اور وہ دو چیزیں قرآن کریم اور عترت ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کا مفہوم دوبارہ سمجھایا ہے اور اس کی تفسیر بیان فرما دی ہے۔مگر قرآن کریم عترت کے دل میں ہی رہ سکتا ہے۔اگر باہر رہ سکتا تو پہلے اُڑ کیوں جاتا۔اصل قرآن وہ نہیں جو اوراق پر لکھا ہوتا ہے بلکہ وہ ہے جو عترت کے دل میں ہوتا ہے۔اور جب عترت اُڑے گی تو وہ بھی اُڑ جائے گا۔پس ہر وہ خاندان جو خدمت سلسلہ کے لئے کسی کو وقف نہیں کرتا وہ قرآن کریم کے دنیا سے اُڑنے میں مدد دیتا ہے۔اور وہ ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے میں مدد دیتا ہے کیونکہ جب تک قرآن کریم اور عترت دنیا میں قائم نہ ہو گی ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔