خطبات محمود (جلد 26) — Page 14
$1945 14 خطبات حمود کو مار دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ۔کیونکہ میں خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہجرت کر کے جارہا ہوں 7 اور حضرت علی نے اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اگر کفار بغیر دیکھے حملہ کر دیتے تو آپ ضرور مارے جاتے۔مگر ان کو شک پیدا ہوا کہ یہ جسم تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معلوم نہیں ہو تا۔اور انہوں نے شکل دیکھی تو معلوم ہو گیا کہ علی نہیں اس لئے انہوں نے نہ مارا۔تو اس میں شک نہیں کہ حضرت علی عترت تھے مگر کسی دنیوی تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دین کی خاطر اپنے آپ کو ذبح ہونے کے لئے پیش کر دیا۔پس ہر وہ شخص جو دنیا پر لات مار کر دین کی خاطر اپنی زندگی کو وقف کرتا ہے اور ہر باپ جو اپنی اولاد کو تعلیم دلا کر دین کے لئے وقف کرتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترت ہے جس سے اسلام زندہ رہ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چیزیں چھوڑیں۔ایک قرآن اور ایک عترت۔قرآن تو ہمیشہ وہی رہے گا مگر عترت ہمیشہ بدلتی رہے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضر عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت سعید، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور دوسرے ایسے ہی صحابہ عترت تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ 8 کہ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔اور یہ کہہ کر بتادیا کہ میری عترت سے مراد صرف وہ لوگ نہیں جو صلب سے ہیں بلکہ وہ ہیں جو دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں اپنی جانیں ذبح کئے جانے کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی انہی لوگوں کو اپنی عترت قرار دیا ہے۔چنانچہ بائبل میں آتا ہے کہ ”جب وہ بھیڑ سے یہ کہہ ہی رہا تھا تو دیکھو اُس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اُس سے باتیں کرنی چاہتے تھے۔کسی نے اس سے کہا دیکھ ! تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے باتیں کرنی چاہتے ہیں۔اس نے خبر دینے والے کے جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی۔اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو! میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔کیونکہ جو کوئی میرے