خطبات محمود (جلد 26) — Page 203
$1945 203 خطبات محمود قائم رکھنا ممکن ہو تا تو ہمارے ملک میں میراثیوں کو جو شجرہ نسب یاد کرایا جاتا ہے یہ نہ کرایا جاتا۔کسی نے شعر کہا ہے عجب طرح کی ہوئی فراغت جو بار اپنا گدھوں پہ ڈالا تو جس طرح گدھوں پر بوجھ ڈال کر فراغت حاصل کی جاتی ہے یہ بھی اسی طرح کی فراغت ہے کہ میراثیوں کو اپنے باپ دادوں کے نام یاد کرا دیئے جاتے ہیں اور کہہ دیا جاتا ہے کہ چلو چھٹی ہوئی اب باپ دادا کا نام یاد رکھنے کی زحمت سے آزادی حاصل ہو گئی ہے۔پس انسان کے اندر اولاد کی خواہش پیدا کرنے میں اصل حکمت یہ نہیں کہ باپ دادا کا نام قائم رکھا جائے بلکہ اصل میں تو خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے تسلسل کو اس حکمت کے ماتحت قائم رکھا جائے اور اس حکمت کے ماتحت اُس نے ماؤں اور باپوں کے دلوں میں اولاد کی خواہش پیدا کر دی ہے۔اور سب مرد اور سب عورت اِلَّا مَا شَاءَ اللہ جس کی فطرت مسخ ہو چکی ہو یا جو اپنی قوت مردمی کھو چکا ہو اس خواہش کے ماتحت ہی اولاد پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا، فاقے کر رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی قبروں پر جاکر منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ اولاد ہو جائے۔بھلا کوئی پوچھے ایک روٹی میں تم گزارہ کرتے ہو اگر ایک اور آگیا تو تم نصف کھاؤ گے۔اگر ان کو یہ سمجھاؤ تو کہتے ہیں ہاں جی ہم آدھی ہی کھالیں گے مگر بچہ ہو جائے۔تو یہ انسانی فطرت کا ایک تقاضا ہے اور نسل انسانی کے قائم رکھنے کے لئے خدا نے اولاد کی خواہش پیدا کر دی ہے۔اس کے مقابلہ میں دین اور تقویٰ کو قائم رکھنے کے لئے اچھی نسل کا تقاضا ہوتا ہے۔جس طرح نسل انسانی کے قائم رکھنے کے لئے اولاد کا تقاضا ہوتا ہے۔اسی طرح نیک اور متقی نسل قائم رکھنے کے لئے اچھی اولا د کا تقاضا ہو تا ہے۔جس طرح وہ تقاضا اگر ماں باپ کے دماغوں میں کمزور ہو جائے تو نوع انسانی تباہ ہو جائے اسی طرح اگر یہ تقاضا کمزور ہو جائے کہ دین اور تقویٰ کو قائم رکھنے کے لئے نیک اولاد پیدا کریں جو کام کرنے والی اور محنتی ہو تو قوم تباہ ہو جائے۔ذرا ایک منٹ کے لئے اس بات کا خیال کر کے تو دیکھو کہ اگر عورتوں اور مردوں کے دل سے اولاد پیدا کرنے کی خواہش مٹ جائے تو کیا نسل انسانی مٹ نہ