خطبات محمود (جلد 26) — Page 202
$1945 202 خطبات محمود کراؤں کہ میر ابیٹاڈ پٹی ہے۔جب یہ وہاں پہنچا تو ڈپٹی صاحب کرسیاں بچھا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کے دوست ای۔اے۔سی۔تحصیلدار، رؤساء اس کے پاس بیٹھے تھے۔وہ تمام سوٹڈ بوٹڈ اور عمدہ لباس میں تھے۔یہ بھی اپنی دھوتی اور جنیو اپنے ایک کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔اس کے لباس سے غربت ٹپکتی تھی۔پہلے بھی غریب تھا پھر لڑکے کی تعلیم اور پڑھانے لکھانے پر جو کچھ تھا وہ سب خرچ ہو چکا تھا اب اُس کا سارا اثاثہ دھوتی اور جنیو ہی رہ گیا تھا۔یہ بڑے فخر سے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔اول تو اسے امید تھی کہ میر ابیٹا آگے آکر گلے ملے گا جیسا پہلے ملا کر تا تھا۔مگر بیٹے نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔اب تو اس بات میں کچھ کمی آگئی ہے مگر پہلے زمانہ میں چونکہ ہندوستانیوں کو اعزاز بہت کم ملتا تھا اس لئے ایسے لوگ دوسرے لوگوں کو بہت حقیر سمجھتے تھے۔چنانچہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی ایک شخص کو جو اس قسم کا گند الباس، میلی سی دھوتی اور جنیو لٹکائے ہوئے تھا کرسی پر بیٹھے دیکھا تو اس امر کو بُرا منایا اور حقارت سے کہنے لگے کہ یہ کون بد تہذیب ہے جو بائیں ہیئت ہماری مجلس میں آبیٹھا ہے ؟ اس نالائق بیٹے نے بھی اپنی عزت جتانے کے لئے جسے وہ عزت سمجھتا تھا کہا ”ایہہ ساڈے گھر دے ٹہلتے نے “ یعنی ہمارا پر انا نوکر ہے اس لئے گستاخ ہو گیا ہے۔باپ نے سنا اور حقیقت سمجھ لی کہ میرے بیٹے کے دماغ میں تغیر آچکا ہے۔وہ غصہ سے کھڑا ہو گیا اور ان لوگوں کو مخاطب ہو کر کہا۔کہ ”جی میں اینہا دا ٹہلیا نہیں اینہادی ماں دا ٹہل یا ہاں “ یعنی میں ان کا نوکر نہیں ان کی ماں کا نوکر ہوں۔اس فقرہ سے وہ لوگ حقیقت سمجھ گئے۔ان کے اندر کچھ حیا تھی وہ اس کے بیٹے کو ملامت کرنے لگے اور کہا کہ بڑا افسوس ہے آپ کو چاہیے تھا کہ آپ ہمیں ان سے ملواتے اور ان سے انٹر وڈیوس کراتے۔لاعلمی میں ان کی شان میں ہم سے ایسے الفاظ نکل گئے جو نامناسب تھے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ماں باپ کی کمزوری اور اُن کی ادنیٰ حالت کو دیکھ کر اپنی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں، ملک بدل لیتے ہیں، وطن جانا چھوڑ دیتے ہیں تاکہ پتہ نہ لگ سکے کہ ان کے ماں باپ غریب تھے اور تاکہ وہ غریب والدین کی اولاد ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہ ہو جائیں۔پس دونوں قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔اور جو گروہ ماں باپ کا نام قائم رکھنے والا ہے وہ بھی لمبے عرصہ تک نام قائم نہیں رکھ سکتا۔اگر ماں باپ کا نام لمبے عرصہ تک