خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 201

خطبات محمود 201 $1945 ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اولاد کی خواہش کا مادہ اِس لئے رکھا ہے تاکہ بنی نوع انسان کے تسلسل کو جاری رکھے اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو دنیا کے واقعات کو دیکھ کر اکثر ماں باپ اولاد پیدا کرنے کے مخالف ہوتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ماں باپ مصیبتیں اٹھاتے ہیں، دکھ سہتے ہیں، بھوکے رہتے ہیں ، بچہ جننے کی وجہ سے ماؤں کو ہزاروں قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں پھر بھی ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ بچے ہو جائیں۔حالانکہ بچوں سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا سوائے نیک اور وفاشعار اولاد کے۔پھر بھی چھ چھ سات سات بچے ہونے پر بھی اگر درمیان میں وقفہ پڑ جائے تو عور تیں کہتی ہیں مدت سے بچہ نہیں ہوا ایک بچہ اور ہو جائے۔ساری عمر عورت کا خون اولاد کے پیدا کرنے میں بہتا چلا جاتا ہے مگر وہ پروا نہیں کرتی۔کئی عورتیں منہ سے تو کہتی ہیں کہ ہمیں اولاد کی خواہش نہیں مگر ان کی باتوں سے عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ صرف شرم وحیا کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہیں ورنہ اُن کا دل اولاد نہ ہونے کی وجہ سے زخمی ہوتا ہے۔پس اولاد کی خواہش ایک طبعی خواہش ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔اس کے ، جو جذبہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے وہ یہی ہے کہ نسل انسانی قائم رہے۔گو انسان اس کو شکل یہ دیتا ہے کہ نام قائم رہے۔گو نام بھی کچھ مدت تک قائم رہتا ہے۔باپ کا نام بیٹے نے یاد رکھایا دادا کا نام پوتے نے یادر کھا۔اور بعض خاندانوں میں چار چار پانچ پانچ پشت تک بھی نام قائم رہتا ہے۔لیکن بعض جگہ نام بالکل قائم نہیں رہتا۔بیٹے باپ کا نام لینا اور یہ کہنا کہ ہمارے باپ کا یہ نام تھا پسند نہیں کرتے بلکہ وہ جگہیں چھوڑ دیتے ہیں جہاں ان کے باپ نے غربت میں زندگی گزاری ہو کیونکہ اُس جگہ رہنا وہ ہتک سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی ہندو کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اُس نے مصیبت اٹھا کر اور تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو پڑھایا لکھایا اور اسے گریجوایٹ کرایا۔اُس وقت گریجوایٹ ہونا بھی بڑی بات تھی اس لئے وہ ای۔اے۔سی ہو گیا۔باپ اس بات کو سن کر کہ میرا لڑکا ڈپٹی ہو گیا ہے بہت خوش ہوا۔اُس وقت بڑے سے بڑا درجہ یہی سمجھا جاتا تھا کہ کوئی ہندوستانی ای۔اے۔سی ہو جائے۔اُس وقت اسے گورنری کے برابر سمجھا جاتا تھا۔اس لئے وہ بڑے شوق سے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے گیا کہ ذرا میں بھی جاکر اس کی عزت میں شریک ہوں۔اور میں بھی لوگوں سے سلام