خطبات محمود (جلد 26) — Page 193
+1945 193 خطبات محمود کہا کہ اب دوست چلے جائیں۔جب میں نے کہا کہ اب دوست چلے جائیں تو کچھ دوست جلدی سے اٹھ کر چل پڑے اور کچھ آہستہ آہستہ اٹھنے لگے اور کچھ بیٹھے رہے۔اس موقع پر ایک نوجوان کھڑا ہوا اچھی طرح معلوم نہیں کہ کون ہے یا ناصر احمد ہے یا میر محمد اسحاق صاحب مرحوم ہیں جو اٹھ کر لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ جب کہا گیا ہے کہ چلے جاؤ تو پھر تم کیوں نہیں جاتے؟ اور جو بیٹھے ہیں ان کو اٹھار ہے ہیں۔اُس وقت میری چارپائی پر دائیں طرف ایک نوجوان بیٹھا ہے جو رشتہ دار معلوم ہوتا ہے۔غالباً دامادوں میں سے کوئی ہے۔رشتہ پوری طرح ذہن میں نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھر کا کوئی فرد ہے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بات کو دیکھ کر کہ لوگوں نے پوری طرح میری فرمانبرداری نہیں کی چار پائی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اُس نوجوان کے پاس آکر اور اُس کا بازو پکڑ کر فرمایا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا۔اُس وقت میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خیال نہیں کہ اُس نے نافرمانی کی ہے بلکہ آپ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ تعلق کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ میرا اپاس رہنا ضروری ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بغیر استثناء کے بیٹھا رہا تو دوسرے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ حکم کا ماننا ضروری نہیں تو آپ یہ بتانے کے لئے اور یہ احساس پیدا کرانے کے لئے کہ حکم کی پوری فرمانبرداری کرنی چاہیے اور اس وسوسہ کو دور کرنے کے لئے جو اُس نوجوان کے بیٹھنے سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے اُس نوجوان سے فرماتے ہیں کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا۔دوسرے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اس نوجوان نے بیٹھنا ہو اور نکالنے والے اس کو باہر نکال دیں اور اس کی ہتک ہو۔تو یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصود تھیں کہ نکالنے والے اس کو نکالیں نہیں اور اس کے بیٹھے رہنے کی وجہ سے کسی کو ٹھو کر بھی نہ لگے۔اور یہ نہ سمجھا جائے کہ حکم کا مانناضروری نہیں کیونکہ یہ نوجوان حکم کے باوجود بیٹھا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا اُس وقت میری آنکھ کھل گئی۔