خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 194

خطبات محمود 194 $1945 اس رویا میں ایک اہم بات وہ ہے جس کو میں نے ظاہر نہیں کیا۔وہ بات سلسلہ کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔میں نے اُس کو اس لئے ظاہر نہیں کیا کہ اگر ایسی باتیں ظاہر کر دی جائیں تو پھر دشمن بھی مقابلہ میں تیاری شروع کر دیتا ہے اور پھر وہ مقصد حل تو ہو جاتا ہے مگر دقتیں پیش آجاتی ہیں۔اس لئے بعض لوگوں کو جن کو بتانا میں نے مناسب سمجھا یا جو اس کام کے اہل تھے اُن کو بلا کر وہ بات میں نے بتادی تھی۔بعض اور لوگ جو میرے نزدیک اس کام کے اہل ہوں گے اُن کو بھی بتا دوں گا۔گو وہ بات تو معمولی ہے کوئی خاص بات نہیں مگر بہر حال وہ ایسی ہے کہ اگر دشمن کو اُس کا پتہ لگ جائے تو وہ ہمارے کام میں روڑے اٹکا سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس بات کے علاوہ بھی اس رویا میں بڑے بڑے اہم معاملات بتائے گئے ہیں۔ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ میرے پیچھے چل رہے ہیں۔جس میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے احمدیت کی ترقی کو میرے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔گویا جدھر میں ہوں گا اُدھر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوں گے اور اُدھر ہی خدا تعالیٰ ہو گا۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے کہنے پر کہ اب دوست چلے جائیں اور جب بعض لوگوں نے سستی دکھائی تو اس پر آپ کا جوش میں آجانا کہ لوگوں نے کیوں فرمانبرداری نہیں کی اور اس جوش میں چار پائی سے اٹھ کر اُس نوجوان کے بازو کو پکڑ کر کہنا کہ جانا ہے تو جاؤ اور اگر نہیں جانا تو کہہ دو کہ میں نے نہیں جانا بتاتا ہے کہ امام کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کو ماننا بھی ضروری ہے اور جو لوگ اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ خد اتعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتے ہیں۔تیسرے اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے اینَمَا تُوَلُّوا کے ماتحت اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جماعت کو چاہیے کہ ایک مقصد کو سامنے رکھ کر کام کرے۔اگر جماعت ہمیشہ ایک مقصد کو سامنے رکھ کر کام کرے گی تو خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اپنا چہرہ دکھانے میں بخل نہیں کرے گا۔لوگ ساری ساری عمر وظیفے کرنے میں گزار دیتے ہیں اور ساری عمر اندھے ہی رہتے ہیں