خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 171

$1945 171 خطبات محمود جس سے قلیل عرصہ میں جماعت کو زیادہ سے زیادہ منظم اور مضبوط کر کے اس کے ذریعہ سے پنجاب میں اور پنجاب سے باہر دائرہ تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہاں کی جماعت کے تعلیم یافتہ دوست وقت کے مطابق کارکنوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس کام کو جلد سے جلد کرنے کی کوشش کریں گے۔اور اگر کارکن سست ہوں تو خود زور دے کر ان کے اندر چستی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔میں جماعت سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ اگر جماعت کا کوئی کارکن کام کا اہل نہ ہو تو اُس کی جگہ بغیر کسی لحاظ کے دوسرا آدمی مقرر کیا جائے۔قومی اور دینی کاموں میں کسی انسان کا لحاظ کرنا انسان کو ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔وہی قوم ایماندار کہلا سکتی ہے جو دین کی ضروریات کو مقدم رکھے اور دینی اور قومی فرض کے مقابلہ میں ذاتی تعلقات کی پروا نہ کرے۔میں سمجھتا ہوں لاہور کی جماعت کا کام اور منظم ہو سکتا تھا۔اگر جماعت کے بعض اور افراد کو بھی کام کا موقع دیا جاتا۔میں نے یہاں کے سکرٹریوں کو دیکھا ہے وہ ایک خاص ٹائپ کے آدمی ہیں اور وہی کام کرتے چلے آرہے ہیں۔حالانکہ لاہور میں بعض اور ٹائپ کے آدمی بھی ہیں جن کو اگر کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو وہ کام کے اہل اور جماعت کے لئے مفید ثابت ہو سکتے تھے مگر بوجہ کام کرنے کا موقع نہ ملنے کے وہ اپنے آپ کو جماعت کے لئے مفید ثابت نہیں کر سکے۔ایک نوجوان کے متعلق جو اچھا کام کرنے والا تھا میں نے دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ داڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے اُس کو کام سے الگ کر دیا گیا ہے۔مجھے اس نوجوان پر بھی افسوس ہوا کہ اُس نے اِس رنگ میں اپنی اصلاح نہ کی کہ وہ دین کی خدمت کر سکے۔لیکن میں سمجھتا ہوں یہ قانون ان عہدوں کے متعلق ہے جو مرکز کا حصہ ہوں اس کے علاوہ مقامی طور پر کام کرنے کے بعض ایسے مواقع ہوتے ہیں جن پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہو تا۔اس لئے اس قسم کے کاموں پر بعض فقال نوجوانوں کو لگانا چاہیے۔اس سے ہمارا جماعتی قانون بھی قائم رہے گا کہ جو نوجوان اس اسلامی شعار کی پابندی کرنے والے نہ ہوں ان کو کوئی ایسا عہدہ نہ دیا جائے جس کا تعلق مرکز سے ہو۔اور مقامی ضرورت کے مطابق کام کرنے والے نوجوانوں کو موقع بھی مل جائے گا کیونکہ مقامی طور پر جو کام ان کے سپر د کیا جائے گا وہ قومی عہدہ یا سلسلہ کا عہدہ نہیں ہو گا۔اس طرح ہمارا قانون بھی نہیں ٹوٹے گا اور نوجوانوں میں