خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 156

$1945 156 خطبات محمود ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشنده میں نے اُس خطبہ میں کہا تھا کہ خوش قسمت ہے وہ شخص جسے کوئی رسوخ حاصل ہو اور وہ اس سے کام لے کر صلح کرانے کی کوشش کرے۔جو کوئی اس کام میں ہاتھ ڈالے گا میری دعائیں اُس کے ساتھ ہوں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا وارث ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے چودھری صاحب کو میری یہ آواز انگلستان میں بلند کرنے کی توفیق دی اور انہوں نے اسے ایسے رنگ میں پیش کیا کہ نہ صرف انگلستان بلکہ امریکن اخبارات میں بھی یہی آواز بلند ہو رہی ہے۔حتی کہ ٹائمز جیسے وقیع اخبار نے بھی اس کی تائید میں نوٹ لکھا ہے۔اور لکھا ہے کہ چودھری صاحب کی آواز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اور اب ہندوستان میں بھی یہی آواز اٹھنے لگی ہے۔اسمبلی میں کئی ممبروں نے تقریریں کی ہیں کہ چودھری صاحب کی یہ آواز ان کی اکیلی آواز نہیں بلکہ یہ سارے ہندوستان کی آواز ہے۔حال میں تاجروں کی سب سے بڑی ایسوسی ایشن نے بھی اپنے اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ یہ آواز اکیلے ظفر اللہ خاں کی آواز نہیں بلکہ ہم تاجر سو فیصدی ان کی اس آواز میں ان کے شریک ہیں۔تو دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے جلد سے جلد ایک پسماندہ صوبہ کے ایک گوشہ کے قصبہ سے اُٹھی ہوئی آواز کو پکڑ کر ریڈیو اور تاروں کے ذریعہ سے ساری دنیا میں پھیلا دیا۔جماعت کے دوسرے دوستوں کو چاہیے کہ اس آواز کے دوسرے حصہ کو بھی بلند کریں۔اس آواز کے دو حصے تھے۔ایک تو انگلستان کے لئے نصیحت تھی کہ وہ ہندوستان کو آزادی دے دے اور اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے اور دوسرے حصہ میں ہندوستان کو میں نے دعوت دی تھی کہ وہ انگلستان کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے اور پرانے اختلافات کو بھلا کر اس سے صلح کرلے۔میری اس آواز کے دوسرے حصہ کو اب ہندوستان میں بلند کرنے کی کوشش جماعت کے دوسرے دوستوں کو کرنی چاہیے۔اور تمام ملک میں اس آواز کو پوری طرح پہنچانا چاہیے۔کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے انگلستان کے ساتھ لڑنا جھگڑنا ہندوستان کے لئے فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتا۔ہندوستان اگر آزاد زندگی کا متمنی ہے تو ضروری ہے کہ وہ انگلستان کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے۔اگر اس نے ایسا نہ کیا تو بعد میں اسے پچھتانا پڑے گا اور