خطبات محمود (جلد 26) — Page 134
$1945 134 خطبات محمود اور باتیں سننے کے بعد وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اچھا صاحب آپ نے یہ علم کہاں سے پڑھا ہے؟ جب میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ میں نے سب کچھ قرآن مجید سے پڑھا ہے تو وہ حیران ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُس سے زیادہ نادان دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کو یہ بھی پتہ نہیں کہ قرآن مجید میں دنیا کے سارے علوم پائے جاتے ہیں۔اور جس طرح پودوں میں خدا تعالیٰ نے یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ سورج کی روشنی میں سے کیمیائی مادے کھینچ لیتے ہیں جن سے ان کی نشو و نما ہوتی رہتی ہے اور آپ ہی آپ بڑھتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن مجید کے علوم میں بھی خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ اس کو پڑھ کر انسان دنیا کا ہر علم حاصل کر سکتا ہے۔لاہور میں ایک دفعہ میرے پاس ایک عورت آئی وہ ایم اے میں فلاسفی پڑھتی تھی۔مرد تو اس قسم کے بیہودہ سوال بہت کم کرتے ہیں مگر عورتیں ایسے سوال کر لیا کرتی ہیں۔کم از کم مجھ سے سوائے ایک شخص کے کبھی کسی مرد نے ایسا سوال نہیں کیا۔مگر اس عورت نے چھوٹتے ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میں دین کی خدمت کرتاہوں۔کہنے لگی آپ کی تعلیم کہاں تک ہے ؟ میں نے کہا میں تو پرائمری فیل ہوں۔پھر اور باتیں شروع ہوئیں۔میں اُس پر کوئی سوال کرتا جب وہ اُس کا جواب دیتی تو میں اُس پر جرح کرتا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگی۔کیا آپ انگلستان اور امریکہ رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں صرف دو ماہ کے لئے انگلستان گیا تھا اور امریکہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔پھر اور باتیں شروع ہوئیں۔پھر شاید اُسے یاد آگیا کہ باہر اس نے شیخ بشیر احمد صاحب کا بورڈ دیکھا تھا۔اس پر کہنے لگی اچھا آپ ایڈووکیٹ ہیں؟ میں نے کہا میں کچھ بھی نہیں میں تو صرف قرآن مجید پڑھا ہو اہوں۔پس حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہر سچائی موجود ہے۔اگر ہم قرآن مجید پر غور اور تدبر کریں تو کوئی ایسی ضرورت نہیں جو قرآن مجید میں پوری نہ ہوتی ہو۔اگر ہم دنیوی علوم کے لحاظ سے جاہل مطلق بھی ہوں تب بھی قرآن مجید پر غور کرنے کے بعد اتنا علم ہمیں ضرور حاصل ہو جائے گا کہ ہم کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوں گے۔اور اگر ہم قرآن مجید پر غور اور تدبر کرنے کے عادی ہوں گے تو ہم اس کے علوم سے فائدہ اٹھائیں گے۔مگر جیسا کہ میں نے