خطبات محمود (جلد 26) — Page 133
خطبات محمود 133 $1945 تھوڑے دن ہوئے میں نے ایک فرانسیسی شخص کے لکھے ہوئے مضمون کا ایک اقتباس پڑھا۔یہ شخص جہازوں کا افسر ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میری ساری عمر جہازوں میں گزری۔مجھے قرآن مجید دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ایک دن اتفاق سفر میں مجھے ایک شخص ملا جس کے پاس فرانسیسی یا ڈچ زبان میں قرآن مجید کی ایک کاپی تھی۔اُسے لے کر میں نے کھولا تو اس میں سے پہلی جگہ جس پر میری نظر پڑی وہ یہ تھی کہ کافر کی زندگی ایسی ہوتی ہے جیسے رات کی تاریکی میں کوئی شخص سمندر میں سفر کر رہا ہو۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہوں اور سخت تاریکی ہو۔گہرے سمندر میں ایک لہر کے بعد دوسری لہر اُٹھ رہی ہو اور بچاؤ کا کوئی سامان نظر نہ آتا ہو۔بالکل یہی حالت کا فر کی ہوتی ہے۔وہ شخص لکھتا ہے کہ میں نے اسے بہت پسند کیا اور میں نے کہا کہ کسی اچھے تجربہ کار بحری نے نہایت عمدگی سے سمندر کے خطرات کو تھوڑے سے تھوڑے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمندر کا سفر کرنے کا موقع ملنا تو الگ رہا آپ نے کبھی کسی چھوٹی کشتی میں بھی پاؤں نہ رکھا تو پھر میں نے کہا کہ یہ بات کہنے والی کوئی اور ذات ہے۔یعنی خدا جو سمندروں کے رازوں سے بھی واقف ہے اور میں نے اسلام کا مزید مطالعہ کیا اور میں مسلمان ہو گیا۔پس یہ خیال کرنا جیسا کہ بعض مسلمان سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید میں اس قسم کی باتیں محض شاعرانہ رنگ میں حُسنِ کلام کے طور پر بیان کی گئی ہیں کہ پہاڑوں کو دیکھو، سمندروں اور دریاؤں کو دیکھو اور آسمان کے ستاروں کو دیکھو بالکل غلط ہے۔قرآن مجید میں اس قسم کی باتیں محض حُسن کلام کے طور پر بیان نہیں کی گئیں بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ان کو دیکھو اور ان پر غور کرو۔اور ان سے سبق حاصل کرو۔مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کو باتوں پر غور کرتے ہیں؟ بہت کم لوگ ہیں جو ان باتوں پر غور کرتے ہیں اکثر لوگ کنویں کے مینڈک کی طرح اپنے ماحول سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی چیز انگشتانہ 1 میں رہ سکے۔تو وہ اس انگشتانہ میں رہنے والی چیز ہیں۔قرآن مجید ہمیں کسی ایک چیز پر بس نہیں کراتا بلکہ وہ ہمیں دنیا کے سارے علوم کی طرف توجہ دلاتا ہے۔میرے پاس بعض آدمی آتے ہیں