خطبات محمود (جلد 26) — Page 132
خطبات محمود 132 $1945 پس قوموں میں حرکت بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں سفر کرنے اور سیر فی الارض کا بار بار ذکر آتا ہے۔بعض مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید نے خالی سیر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پہاڑوں، دریاؤں اور سمندروں کی سیر کیا کرو۔رات کے وقت آسمان پر نظر ڈال کر ستارے دیکھ لیا کرو۔اس سے زیادہ قرآن مجید کا اور کوئی مطلب نہیں۔اور یہ سمجھنے والے بھی صرف ایک فیصدی ہیں باقی ننانوے فیصدی ایسے ہیں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآن مجید میں لکھا کیا ہے۔قرآن مجید میں کئی جگہ آسمان کو دیکھنے اور ستاروں پر غور کرنے کا ذکر آتا ہے۔قرآن مجید میں کئی جگہ پہاڑوں کو دیکھنے اور دریاؤں اور سمندروں کو دیکھنے اور ان پر غور کرنے کا ذکر آتا ہے۔قرآن مجید میں کئی جگہ اس بات کا ذکر آتا ہے کہ جاؤ اور دنیا میں پھر کر دنیا کے حالات کا مطالعہ کرو۔مگر مسلمانوں میں کتنے ہیں جنہوں نے کبھی آسمان پر اور ستاروں پر غور کیا ہے؟ ہزار میں سے ایک بھی نہیں بلکہ لاکھ میں سے ایک بھی نہیں۔کتنے ہیں جنہوں نے پہاڑوں اور دریاؤں اور سمندروں پر کبھی غور کیا ہے؟ کتنے ہیں جنہوں نے دنیا میں پھر کر دنیا کے حالات کا مطالعہ کیا ہے؟ قرآن مجید میں اس قسم کی آیات پڑھ کر ا کثر مسلمان تو یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید میں یہ باتیں محض محسن کلام کے طور پر ہیں۔اس سے زیادہ اس کا اور کوئی مطلب نہیں۔جس طرح غالب کے کلام میں یا ذوق کے کلام میں یا سودا کے کلام میں یا میر تقی کے کلام میں بعض باتیں محض تزئین کلام کے طور پر ہیں اور اس سے زیادہ اُن کی اور کوئی غرض نہیں اسی طرح اللہ میاں نے بھی قرآن مجید میں اس قسم کی باتیں کہ جاؤ اور پہاڑوں کو دیکھو، جاؤ اور دریاؤں اور سمندروں کی سیر کرو اور ان پر غور کرو، آسمان اور آسمان کے ستاروں پر غور کرو محض کلام کو مزیدار بنانے کے لئے بیان کر دی ہیں ورنہ خدا کا یہ منشاء نہیں کہ آسمان اور آسمان کے ستاروں پر سچ مچ غور کیا جائے۔یا پہاڑوں اور دریاؤں اور سمندروں پر غور کرو۔پس جب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی باتیں محض حُسن کلام کے طور پر بیان کی گئی ہیں اس سے زیادہ اس کی اور کوئی غرض نہیں تو انہوں نے ان باتوں پر عمل کیا کرنا ہے۔اور جب انہوں نے عمل نہیں کرنا تو قرآن کریم کی تعلیم سے انہوں نے فائدہ کیا اٹھانا ہے۔