خطبات محمود (جلد 26) — Page 124
خطبات محمود 124 $1945 تو جس طرح بارش کا پانی گرنے سے ہر قسم کی روئیدگی پیدا ہوتی ہے اسی طرح روحانی بارش کے وقت کفر بھی بیدار ہو جاتا ہے اور ایمان بھی تر و تازہ ہو جاتا ہے۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے ایک جماعت قائم ہوئی۔وہ جماعت کہ اس کے اندر اخلاص اور تقویٰ پایا جاتا ہے اور اس کے ایمان کے اندر ایک بیداری اور بلندی کی امنگ پائی جاتی ہے۔خواہ وہ اس درجہ تک نہ ہو جس کی امید کی جاتی ہے، خواہ وہ ابھی تربیت کی محتاج ہو۔مگر ایک ٹولہ لنگڑا اور کمزور آدمی اگر صحیح راستہ پر جارہا ہو تو ہر دیکھنے والا یہی کہے گا کہ ہے تو یہ لنگڑا پر چلتا ٹھیک راستہ پر ہے۔آخر یہ ایک دن اپنی منزل پر پہنچ ہی جائے گا۔اسی طرح ہماری جماعت کے متعلق خدائی قانون کے مطابق دیکھ کر ہر شخص یہی کہے گا کہ خواہ یہ جماعت شست ہو یا بچست ہو، کمزور ہو یا طاقتور ہو مگر چلتی ٹھیک راستہ پر ہے۔ایک دن آخر اپنی منزل پر پہنچ ہی جائے گی۔تو ادھر آپ کی آمد سے اس قسم کی ایک جماعت قائم ہوئی اور اُدھر آپ کے آنے سے کفر میں بھی بیداری پیدا ہو گئی۔یہ دونوں قسم کی جماعتیں ہیں اور دونوں اپنے اندر بیداری اور اُبھار پیدا کر رہی ہیں۔جس طرح تلخ بوٹیاں جو آپ ہی آپ اگ آتی ہیں وہ اپنا جوش اور ابھار دکھا رہی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے بھی امید رکھتا ہے کہ ان تلخ بوٹیوں کے مقابل میں اُسی طرح بلکہ اس سے زیادہ اپنا ابھار دکھائے اور اپنی روئیدگی کو ظاہر کرے۔دنیا ساری کی ساری اپنا ابھار اور اپنا جوش دکھانا چاہتی ہے اور اپنے حسن اور اپنی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔گویا شیطان اپنی پوری زینت کے ساتھ ظاہر ہوا ہے تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے دین سے موڑے۔تو اس کے بالمقابل خدا کے بیٹوں کا بھی یہ کام ہے یا کہ وہ اپنے اندرونی اور روحانی حسن کو ظاہر کرنے کی اس رنگ میں کوشش کریں کہ شیطان کا حسن ماند پڑ جائے۔اور اس کی خرابی تمام دنیا کو نظر آجائے، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا اپنے کاموں میں اس قدر چستی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ اس کے مقابلہ میں پچھلے کام پیچ نظر آتے ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے اور میں جرمن قوم کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا خواہ وہ ہمارے دشمن ہیں، خواہ ہمیں ان کے ساتھ اختلاف ہے مگر جب میں جرمن فوجوں پرانے زمانوں میں نبی اور اس کی جماعت کو استعارہ خدا کے بیٹے کہا جاتا تھا۔