خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 63

$1944 63 خطبات محمود نے اپنے ارادہ سے اور جان بوجھ کر اس کا اجراء کیا۔میں نے 1934ء میں تحریک جدید کو ایسے حالات میں جاری کیا جو ہر گز میرے اختیار میں نہیں تھے۔گورنمنٹ کے ایک فعل اور احرار کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس تحریک کا القاء فرمایا اور اس تحریک کے پہلے دور کی تکمیل کے لیے میں نے دس سال میعاد مقرر کی۔ہر انسان جب کوئی قربانی کرتا ہے تو اس قربانی کے بعد اس پر ایک عید کا دن آتا ہے۔چنانچہ دیکھ لیے لو رمضان کے مہینہ میں لوگ روزے رکھتے اور تکلیف برداشت کرتے ہیں مگر جب رمضان گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ مومنوں کے لیے ایک عید کا دن لاتا ہے۔اسی طرح ہماری دس سالہ تحریک جدید جب ختم ہوگی تو اس سے اگلا سال ہمارے لیے عید کا سال ہو گا۔دوست جانتے ہیں تحریک جدید کا پہلا دس سالہ دور اسی سال یعنی 1944ء میں ختم ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ سن 1945ء جو ہمارے لیے عید کا سال ہے، پیر کے دن سے شروع ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ خبر بھی دی تھی کہ ایک زمانہ میں اسلام کی نہایت کمزور حالت میں اس کی اشاعت کے لیے ایک اہم تبلیغی ادارہ کی بنیاد رکھی ہے جائے گی اور جب اس کا پہلا دور کامیابی سے ختم ہو گا تو یہ جماعت کے لیے ایک مبارک ہے وقت ہو گا۔اس لیے وہ سال جب مومن اس عہد و قربانی کو پورا کر چکیں گے جو وہ اپنے ذمہ لیں گے تو ایک مبارک بنیاد ہو گی اور اس سے اگلے سال سے خدا تعالیٰ ان کے لیے برکت کا بیج بوئے گا اور خوشی کا دن ان کو دکھائے گا۔اور جس سال میں یہ وقوع میں آئے گا اُس کا پہلا دن پیر یادو شنبہ ہو گا۔پس وہ سال بھی مبارک اور وہ دن بھی مبارک۔پس " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ "۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ مصلح موعود اس سلسلہ کی تیسری کڑی ہو گا۔بعض دفعہ ایک چیز کی کسی اور چیز سے مشابہت دے دی جاتی ہے مگر ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے مراد وہی ہو۔پس میرے نزدیک اس کے معنے بالکل واضح ہیں اور "فضل عمر " جو الہامی نام ہے وہ ان معنوں کی تائید کرتا ہے۔میں اس امر کا بھی ذکر دینا چاہتا ہوں کہ جب رؤیا کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں ہے