خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 495

$1944 495 محمود ہر شخص اس یقین کے ساتھ پتہ پوچھے گا کہ جو اس جگہ کو جانتا ہے جہاں آج سے کچھ مہینے پہلے مرکز تبلیغ تھا اس کا علم اب بھی میرے لیے صحیح ثابت ہو گا ہم تو پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ بعض مجبوریوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے مگر دوسرے مسلمانوں کے نزدیک تو کسی صورت میں بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔گو ہمارے نزدیک بھی تبدیلی والی صورت بالکل شاذ ہے ورنہ عام حالات میں ہم بھی یہی مانتے ہیں کہ مسجد میں تبدیلی نہیں ہو سکتی )۔غرض اگر اس شہر میں مسجد ہو گی تو یہ چونکہ ایک مستقل مرکز ہے اس لیے آہستہ آہستہ لوگوں میں اس کی شہرت ہو جائے گی اور پھر وہ شہرت بڑھتی چلی جائے گی۔پھر چاہے تم بران جیسے شہر میں یا نیو یارک جیسے شہر میں بھی کوئی شخص پوچھے گا کہ مسجد کہاں ہے؟ تو وہ بتا دیں گے۔جب میں لنڈن گیا تو مجھے اس کا تجربہ ہوا۔لندن کتنا بڑا شہر ہے۔اگر نیو یارک اِس سے بڑھ نہیں گیا تو وہ دنیا میں سب سے بڑا شہر ہے۔اور اگر نیو یارک اس کے برابر ہو چکا ہے تو دو بہت بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔جب میں لندن گیا ہوں تو ہم مسجد سے دور ایک اور جگہ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔پہلی دفعہ جب جمعہ پڑھنے کے لیے ہم مسجد کی طرف گئے تو اتفاقاً موٹر میں بیٹھے۔لوگوں میں سے کسی کو بھی مسجد کا صحیح پتہ معلوم نہ تھا۔نہ ہمیں یاد رہا کہ مسجد کا پتہ پوچھ لیں اور نہ ہی مسجد والوں کو اِس کا خیال آیا کہ وہ ہم کو بتا چھوڑتے۔اتفاق کی بات ہے جس موٹر میں ہم سوار ہوئے۔اُس کا ڈرائیور بھی لندن کے باہر کا تھا۔اُس کو بھی لندن کا پورا علم نہیں تھا۔ہم کو صرف اتنا پتہ تھا کہ مسجد پینٹی میں ہے۔اب چٹنی ایک علاقے کا نام ہے۔جیسے امرتسر ہے یا شاید لدھیانہ یا سیالکوٹ کے برابر ہو گا۔اب نہ موٹر والے کو مسجد کی جگہ کا پتہ کیونکہ وہ دوسری جگہ سے کرایہ پر موٹر لے کر آیا ہوا تھا اور نہ ہی ہمیں اُس کا کوئی پتہ معلوم تھا۔ہم بہت گھبر ائے کہ نماز کا وقت ہو چکا ہے لوگ مسجد میں جمع ہوں گے اور ہمارا انتظار کرے رہے ہوں گے۔یہ پہلا جمعہ تھا جو ہم نے وہاں پر پڑھنا تھا۔خیال تھا کہ اگر ہم وقت پر نہ پہنچ ہی سکے تولوگوں پر برا اثر پڑے گا کہ یہ لوگ وقت کے بھی پابند نہیں۔موٹر والے کو صرف جہت ہے کا پتہ تھا وہ اُس طرف موٹر لے گیا۔اُس علاقہ میں ایک شخص کو ہم نے دیکھا جو موٹر سائیکل لیے ایک شخص سے جو موٹر میں سوار تھا باتیں کر رہا تھا۔ہم نے ڈرائیور سے کہا ان سے