خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 433

خطبات محمود 433 $1944 خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نبی آتا ہے اور اُس کی اُمت کے لوگ اس کے ساتھ ملتے ہیں۔اس کے حسن کو اپنے دلوں پر نقش کر لیتے ہیں اور اس کی تعلیمات کو سیکھتے ہیں۔اور جس طرح جب ایک انسان فوت ہوتا ہے تو اُس کا حسن اُس کے بعد بھی اُس کی اولاد میں موجود ہوتا ہے نبی اور مامور کے بعد اس کے متبعین میں اُس کا حسن منتقل ہو جاتا ہے۔جس طرح ایک انسان کی وفات کے بعد اس کی جسمانیت اس کی اولاد میں منتقل ہو جاتی ہے اسی طرح نبی اور مامور کی وفات کے بعد اُس کا نور اور اس کی روحانیت اس کے متبعین میں منتقل ہو جاتی ہے۔اگر اس کی اولاد ایسی نہیں جو رجولیت سے محروم ہو تو وہ پھر آگے ایسے لوگ جنتی ہیں جن میں ان کا اثر موجود ہوتا ہے اور پھر وہ آگے اس سلسلہ کو چلاتے جاتے ہیں۔حتی کہ وہ زمانہ آجاتا ہے جب روحانی نسل روحانی طور پر بانجھ اور نامرد پیدا ہوتی ہے اور نسل بند ہو جاتی ہے۔مگر چونکہ جسمانی نسل بند نہیں ہوتی اور سلسلہ تناسل جاری ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ایک نیا روحانی آدم پیدا کرتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے آدم کے پیدا کیے جانے سے پچھلی امت کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں؟ ہر گز نہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ نیا آدم جو پیدا ہو گیا اس لیے ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی۔خدا تعالیٰ ان سے کہے گا کہ اگر میں نے نیا آدم پیدا کیا تو اس لیے ہے کہ تمہاری وجہ سے روحانی سلسلہ بند ہو گیا۔اور اس سلسلہ کو بند کرنے کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے آجاتے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی کے بچہ کو مار دے اور کہے کہ کیا ہوا مار دیا ماں باپ ابھی زندہ ہیں اور بچہ پیدا کر سکتے ہیں تو کیا اُس کے ماں باپ اُس کو چھوڑ دیں گے ؟ اسی طرح اللہ تعالی ان لوگوں کو یہ جواب دے گا کہ میں نے نیا آدم تو اس مجبوری کی وجہ سے پیدا کیا کہ پہلا سلسلہ تم نے بند کر دیا۔اگر تم اسے جاری رکھتے تو نیا آدم پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔تو روحانی نسل کا جاری رکھنا بلکہ آئندہ نسل کو پہلی سے بہتر بنانے کی کوشش کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔انگریزوں کی خواہ کوئی کتنی بُرائی کرے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ لوگ اپنے ملک میں بھی اور یہاں بھی ہمیشہ پیج کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ کوشش کرتے رہتے ہیں کہ بیچ پہلے سے اچھے ہوں۔ہندوستان میں پہلے گندم بہت اونی قسم کی من