خطبات محمود (جلد 25) — Page 432
خطبات محمود 432 $1944 ضرورت نہیں۔اسی طرح پہاڑ ہیں۔جو پہاڑ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں وہی چلے جاتے ہیں۔کبھی کوئی یہ نہیں کہتا کہ آج ہمالیہ نے بچہ دیا ہے یا آج ہمالیہ مر گیا۔آج فلاں چٹان نے بچہ دیا یا آج فلاں چٹان مر گئی۔آج لو باد نیا میں مر گیا یا آج لوہے کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔اس لیے کہ جب تک لوہے کی ضرورت ہے وہی لوہا دنیا میں کام آتا رہے گا۔اس لیے ان چیزوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ تناسل جاری نہیں کیا۔مگر وہ چیزیں جو اپنے قومی مقصد و مدعا کے حصول سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اُن کے لیے اللہ تعالیٰ نے تناسل کا سلسلہ جاری کیا ہے۔جب تک دنیا ہے اور انسان اس میں آباد ہیں سواری اور بوجھ اٹھانے کے لیے گھوڑوں کی ضرورت ہے، خچروں اور گدھوں کی ضرورت ہے۔مگر یہ چیزیں مرتی ہیں۔گھوڑے مر جاتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اور گھوڑے پیدا کر دیتا ہے۔خچریں مرتی ہیں اور اللہ تعالی اور خچریں پیدا کر دیتا ہے ہے۔گدھے مرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور گدھے پیدا کر دیتا ہے۔ان کے لیے سلسلہ تناسل جاری ہے۔یہی حال انسان کا ہے۔انسان کو اللہ نے خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔وہ مقصد کسی خاص انسان کے ساتھ وابستہ نہیں۔کوئی ایک انسان نہیں جس کے ساتھ انسانی پیدائش کی غرض پوری ہو جاتی ہو۔اس لیے اللہ تعالی نے انسانی پیدائش کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے ہے تاجب تک اس مقصد کی تکمیل کا وقت آئے انسان دنیا میں موجود رہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے اور اُس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔مگر چونکہ انسان مرتے ہیں اس لیے ان میں سلسلہ تناسل جاری کیا گیا ہے۔ایک انسان مرتا ہے تو اس کے پیچھے دو تین، چار پانچ یا کم و بیش بچے اُس کے قائم مقام موجود ہوتے ہیں۔تو جہاں تک جسمانیات کا تعلق ہے انسان میں تناسل کا سلسلہ موجود ہے۔اس کے مقابلہ میں روحانی حالت ہے۔اس کے لیے بھی تناسل کا سلسلہ ضروری ہے کیونکہ جب تک تناسل کا سلسلہ جاری نہ ہو ایک نسل کے بعد پھر کفر و بدعت دنیا میں پھیل جائے۔جس طرح جسمانی لحاظ سے سلسلہ تناسل ضروری ہے اسی طرح روحانی لحاظ سے بھی ضروری ہے۔جس طرح جسمانی نسل چلانے کے لیے مرد و عورت باہم ملتے ہیں اور بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی نسل کے لیے مامور اور مرید یا معلم اور متعلم کا ملنا ضروری ہے۔