خطبات محمود (جلد 25) — Page 367
خطبات مج محمود 367 ولیا $1944 پرندوں کے لیے گھونسلے ہیں اور درندوں کے لیے غاریں لیکن ابن آدم کے لیے سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں۔2 یہی حال آج اسلام کا نظر آرہا ہے۔آج دنیا میں ہر قوم کے لیے ٹھکانا ہے لیکن اسلام کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔اگر ہندوستان میں مسلمان ہیں تو وہ ہندؤوں اور انگریزوں کی کے رقم پر ہیں۔اگر ہندوستان سے باہر مسلمان ہیں تو وہ کلی طور پر عیسائیوں کے رحم پر ہیں۔مصر ہے تو وہ بھی انگریزوں کے رحم پر ہے۔پہلے اس میں فرانسیسی بھی شامل تھے مگر اب وہ ہی انگریزوں کے رحم پر ہی ہے ، ٹرکی ہے تو وہ بھی انگریزوں اور دوسروں کے رحم پر ہے، ایران ہے تو وہ بھی انگریزوں اور روسیوں کے رحم پر ہے، افغانستان ہے تو وہ بھی انگریزوں اور روسیوں کے رحم پر ہے۔کوئی احمق اور جاہل اور گودن 3 شخص ہی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان حکومتوں کو کوئی طاقت حاصل ہے۔اس قسم کے پاگل لوگ ہی تھے جو آج سے پچاس سال پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ لڑکی کا بادشاہ جب باہر نکلتا ہے تو یورپ کے بارہ بادشاہ اُس کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر چلتے ہیں۔اسی طرح کوئی پاگل اور احمق ہی ٹرکی اور ایران اور مصر اور عرب اور افغانستان کی حکومتوں کے متعلق یہ خیال کر سکتا ہے کہ ان کو یور بین حکومتوں کے مقابلہ میں کوئی طاقت حاصل ہے۔ان کے پاس اگر حکومت ہے تو محض اس لیے کہ دنیا کے پر دو پر چند ہی بڑی بڑی کھیل کرنے والی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ بظاہر ان ملکوں کا آزا در ہنا ہمارے لیے مفید ہے۔جس طرح بلی چوہے سے کھیلتی ہے اسی طرح وہ لوگ ان ملکوں سے کھیل رہے ہیں۔پس بے شک ان کو آزادی حاصل ہے مگر یہ آزادی اُس ترنم کی وجہ سے ہے یا اُن اغراض فاسدہ کی وجہ سے ہے جو یورپین لوگوں کو انہیں آزاد رکھنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ور نہ دیکھ لو وہی ایران جس کے متعلق یہ کہتے تھے ایران ہمارا دوست ہے، ایران ہمارا بھائی اور ایران ہمارا برادر ہے۔اسی دوست، اسی بھائی اور اسی برادر کے متعلق جس دن انہیں معلوم ہوا کہ وہ جرمنوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے اُسی دن انہوں نے اس کے بادشاہ کو پکڑ کر ملک سے باہر نکال دیا اور خود اس پر قبضہ کر لیا۔گویا وہی جسے وہ سچا دوست اور ہمارا بھائی کہہ کہہ کر پکارتے تھے چند دنوں کے اندر اندر ان کا چپڑاسی اور ان کا غلام اور ان کا قیدی بن گیا۔بھلا ایسا سلوک کوئی دوسری طاقت انگریزوں سے، امریکہ والوں سے یاروس والوں سے کر سکتی تھی؟