خطبات محمود (جلد 25) — Page 368
خطبات محمود 368 $1944 اب تو روس اپنی مرضی سے انگریزوں کے ساتھ ہے لیکن اگر وہ انگریزوں کے ساتھ نہ ہوتا بلکہ جرمنوں کی تائید میں ہوتا تو کیا انگریز اور امریکن روس سے کہہ سکتے تھے کہ اگر تم جرمنوں کو اپنے ملک سے نہیں نکالو گے تو ہم تمہارے ملک پر جنگی مفادات کے لیے قبضہ کر لیں گے ؟ اور وہ ایسا کبھی نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ روس ایک طاقت ہے۔اور ایران کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی طاقت نہیں۔وہ ایک مسکین اور غریب ملک ہے، جدھر اس کی ناک موڑو وہ مُڑ جائے گا۔پس چاہے وہ اِس ملک کو آزاد کہہ دیں، چاہے اسے اپنا بھائی کہہ دیں، چاہے اسے اپنا ہر اور قرار دیں، چاہے اس کی حکومت کو اپنے بھائی کی حکومت قرار دیں ہے پھر بھی اس کے معنے یہی ہوں گے وہ ہمارا غلام ہے، وہ ہمارا چپڑ اسی ہے ، وہ ہمارا قیدی ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر وہ یہ بھی کہیں کہ شہنشاہ ایران ہمارا سرتاج ہے تو بھی اس کے یہی معنے ہوں گے کہ اس غلام کو ہم اتنے دن ظاہر میں آزاد رکھنا چاہتے ہیں اس سے زیادہ اس کے کوئی معنے نہیں۔غرض دنیا میں اسلام سے بڑھ کر اور کوئی بے کس نہیں۔بے شک مسلمان تعداد کے لحاظ سے کافی ہیں مگر وہ تعداد ایسی ہے جو مختلف ملکوں میں بکھری ہوئی ہے اور اس انتشار کی وجہ سے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہندؤوں کو طاقت حاصل ہے۔کیونکہ ہند و جتنے بھی ہیں سب ایک ملک میں ہیں، سب ایک جگہ اکٹھے ہیں، ایک ہی ملک میں وہ تیس کروڑ تک پہنچے ہوئے ہیں۔مگر چالیس کروڑ مسلمان وہ ہیں جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ایک جگہ پر تیس کروڑ آدمیوں کو جو طاقت حاصل ہو سکتی ہے وہ ان چالیس کروڑ آدمیوں کو حاصل ہے نہیں ہو سکتی جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہوں۔اگر ایک خاندان کے دس آدمی شہر کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہوں تو چور یقینا ان کے گھر پر حملہ کر سکتا ہے۔لیکن اگر وہ دس آدمی می اپنے گھر میں اکٹھے ہوں تو چور ان کے گھر پر حملہ کرنے سے ڈرتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ شاید یہ دس آدمی لٹھ لے کر کھڑے ہو جائیں اور میر اسر پھوڑ دیں۔پس گو بظاہر سیاستاً بظاہر کمزور نظر آتے ہیں مگر ان کی پوزیشن اور ان کا مقام ایسا ہے جس نے انہیں مسلمانوں سے زیادہ ہے طاقتور بنایا ہوا ہے۔ایسے نازک وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام