خطبات محمود (جلد 25) — Page 334
خطبات محمود 334 $1944 جو اسلام کا مرکز کہلاتا ہے۔جہاں کئی لاکھ کی مسلم آبادی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہاں اور بھی مسجدیں ہیں۔یہ نہیں کہ سب لوگ اُسی مسجد میں آتے ہوں۔لیکن جامع مسجد کی اِس حالت کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اور مساجد کی کیا حالت ہو گی۔میں تو دنیا میں جہاں ہے جہاں گیا ہوں مساجد مجھے ایسی ہی ویران دکھائی دی ہیں۔مجھے زیادہ سیاحت کا موقع نہیں ملا مگر پھر بھی جو اسلامی علاقے میں نے دیکھے ہیں ان میں یروشلم ہے ، حیفا ہے، دمشق ہے، پورٹ سعید ہے، سویز ہے، قاہرہ ہے۔یہ علاقے میں نے دیکھے ہیں۔اسی طرح ہندوستان کی وہ مساجد جو شمالی ہند میں ہیں یا وہ مساجد جو مغربی ہند میں ہیں میں نے دیکھی ہیں۔جنوبی ہند اور مشرقی ہند میں مجھے جانے کا موقع نہیں ملا۔مگر میں نے کوئی جگہ بھی ایسی نہیں دیکھی جہاں کی مسجدیں آباد ہوں۔سوائے بیت اللہ کے کہ وہ ایک ایسا مقام ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مقام کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔بے شک ہم حج کے دنوں میں وہاں گئے تھے جب اور دنوں کی نسبت وہاں بہت زیادہ عبادت کرنے والے جمع ہو جاتے ہیں مگر میں نے گرید گرید کر لوگوں سے پوچھا تو یہی معلوم ہوا کہ دوسرے ایام میں بھی بالعموم مکہ والے بیت اللہ میں ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور ہر وقت ہزاروں نمازی وہاں موجو د رہتے ہیں۔حج کے دنوں میں تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔وہ بڑی وسیع مسجد ہے مگر پھر بھی بعض دفعہ ساری مسجد کناروں تک نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔عام اندازہ یہ ہے کہ وہاں ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک لوگ حج کے دنوں میں نمازیں پڑھتے ہیں اور دوسرے دنوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں وہاں نماز پڑھنے والے موجو د رہتے ہیں۔وہاں چھوٹی چھوٹی الگ بھی مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔مگر پھر بھی محلہ والوں کی یہی خواہش ہوا کرتی ہے ہم کوئی نہ کوئی نماز بیت اللہ میں ضرور پڑھیں۔اور بعض نے تو یہ عہد کیا ہوتا ہے کہ ہم ساری نمازیں چاہے ہم کتنی ہی دور کیوں نہ رہتے ہوں بیت اللہ میں ہی پڑھیں گے۔بس بیت اللہ العتیق کے ہوا قادیان کے باہر میں نے کوئی مسجد آباد نہیں دیکھی۔بالعموم مسجدیں نمازیوں سے خالی ہوتی ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ دلوں میں نماز کی اہمیت نہیں رہی۔وہ سمجھتے کہ ہیں کہ نماز ایسی ہی چیز ہے جیسے ٹونا یا جادو ہوتا ہے۔کوئی حقیقی فائدہ نماز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔