خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 284

خطبات محمود 284 $1944 ہمارے سپر د کیا جانے والا ہے۔ابھی ہماری جماعت میں بہت بڑی جہالت اور بہت بڑی نادانی پائی جاتی ہے۔قادیان کے لوگ تو پھر بھی دین کی باتیں اکثر سنتے رہتے ہیں لیکن باہر کے لوگوں میں سے بہت سے تو بڑو کے بڑو ہیں۔انہیں کچھ پتہ نہیں کہ اسلام اُن سے کیا تقاضا کرتا ہے، احمدیت ان سے کیا چاہتی ہے ، خدا اور اس کار سول انہیں کس راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔صرف چند موٹے موٹے مسائل ان کو معلوم ہیں اس سے زیادہ ان کو کچھ پتہ نہیں۔اسلامی مسائل کی باریکیاں، احکام الہی کی حکمتیں، قرآن کریم کی تعلیم کی خوبیاں، اسلام کی تمدنی، سیاسی اور اقتصادی تعلیمیں، احمدیت اور اسلام کا روشن مستقبل، حکومت اور نظام سے تعلق رکھنے والی اسلامی تعلیم کی تفصیلات اور اس کی خوبیاں، عبادات اور روحانیت میں ترقی کرنے کے اصول، بندوں اور خدا کے آپس میں تعلقات، دنیا کی پیدائش کی حکمتیں یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ابھی اُن کو معلوم نہیں اور جن کے سیکھنے اور معلوم کرنے کی تڑپ بھی بعض لوگوں کے اندر نظر نہیں آتی۔فرض کرو کل ہی وہ دن آجاتا ہے جب دشمن کو تباہ کر دیا جاتا ہے، لفر کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ہی ہاتھ مٹاکر رکھ دیتا ہے، جب خدا اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہے کہ جاؤ اور ان لوگوں کی حکومت کو سنبھال لو۔تو ہم کہاں سنبھال سکیں گے۔اور جب ہم اس کو سنبھالنے کی اپنے اندر طاقت نہیں پائیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ اُسے کوئی اور قوم لے جائے گی۔انگریز جب افریقہ میں گئے تو افریقن قبائل چونکہ چھوٹے چھوٹے تھے اور زمینیں ان کے پاس بڑی کثرت کے ساتھ تھیں جن کی وہ کاشت بھی نہیں کر سکتے تھے اس لیے انگریز ان میں سے کہتے کہ جتنی زمین میں تم آسانی سے ہل چلا سکتے ہو اتنی زمین اپنے پاس رکھ لو باقی زمین ہے تمہیں اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تمہارے لیے بیکار ہے۔چنانچہ تھوڑی تھوڑی ہے زمین ان لوگوں نے لے لی اور باقی سب زمین پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔اب کینیا کالونی میں ہے بعض انگریزوں کے پاس ایک ایک لاکھ ایکڑ زمین موجود ہے حالانکہ اس زمین کے مالک ہے افریقہ کے حبشی قبائل تھے۔مگر چونکہ وہ ان زمینوں کو سنبھالنے کی قابلیت اپنے اندر نہیں ہے رکھتے تھے اس لیے انگریزوں نے ان سے کہہ دیا کہ جتنی زمین تم سنبھال سکتے ہو وہ سنبھال او من