خطبات محمود (جلد 25) — Page 214
$1944 214 خطبات محمود حاصل کرنے کے بعد دوسرے کو سکھائے۔فقہ کے علماء حدیث کے علماء کو فقہ کی اعلیٰ دیں اور حدیث کے علماء فقہ کے علماء کو حدیث کی اعلیٰ تعلیم دیں اور اس طرح باہم استاد شاگرد ہو کر مکمل علوم کے ماہر بن جائیں۔لیکن یہ سکیم پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ایسے افراد زیادہ تعداد میں نہ ہوں جو دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔جسمانی کام ایک ایک آدمی سے بھی چل سکتے ہیں کیونکہ جسم کا فتح کرنا آسان ہے۔مگر روحانی کاموں کے لیے بہ آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ دلوں کا فتح کرنا بہت مشکل کام ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ ہمارے پاس اتنے معلم ہوں کہ ہم انہیں تمام جماعت میں پھیلا سکیں اور تمام افراد جماعت کو حسب قابلیت قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی تعلیم دے سکیں۔اس وقت یہ حالت ہے کہ علم صرف چند لوگوں تک محدود ہے باقی ہے صرف ایمان رکھتے ہیں زیادہ علم ان کو نہیں۔اور یہ چیز جماعت کی ترقی میں محمد نہیں ہو سکتی۔ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا ہر زمیندار ، تاجر ، پیشہ ور ، وکیل، بیرسٹر ، ڈاکٹر، انجنیئر ایک خاص حد تک قرآن، حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم رکھتا ہو۔مگر یہ نہیں ہو سکتا جب تک ہمارے پاس علماء کی کثرت نہ ہو۔اس کے ساتھ ہی اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ علماء کی کثرت کے ساتھ اخراجات میں بھی اضافہ ہونا لازمی ہے۔میرا اندازہ ہے کہ فی الحال دو سو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کاموں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جا سکتا ہے۔لیکن اس وقت واقفین کی تعداد 35،30 ہے۔اس وقت جماعت کے لوگ اپنے اندر ایک تبدیلی ہے محسوس کر رہے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ صرف منہ کی بانہیں، بیانات اور نعرے لگا دینے کا ہے کوئی فائدہ نہیں بلکہ ضرورت ہے کہ اس تبدیلی سے فائدہ اٹھایا جائے اور عملی قربانی کے لیے نوجوان آگے آئیں۔زمیندار طبقہ ہمارے ملک کی جان ہے۔ان میں سے اور اُن قوموں میں سے جو باہر سے ہندوستان میں آئی ہیں مثلاً پٹھان، قریشی، سید ، مغل اور راجپوت و غیره اقوام میں سے بہت کم نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں۔زیادہ تر ایسے نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں جن کا پشت پناہ جماعتی طور پر کوئی نہیں۔اور ایسی صورت میں بعض اوقات