خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 213

خطبات محمود 213 $1944 اور مفسر ہوں اور یہ چیز ابھی ہم سے بہت دور ہے۔سال سے کچھ کم عرصہ ہوا میں نے اس کی ا بنیاد قائم کرنی شروع کی تھی۔اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی بندے کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس سے ایسے کام کراتا ہے کہ پہلے اُسے خود بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کام کیسا اہم ہے۔پھر آہستہ آہستہ جب وہ پھیلتا ہے تو اس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔چنانچہ میں نے کچھ عرصہ ہوا یہ محسوس کیا کہ تحریک جدید کے واقفین کی تعلیم جس رنگ میں ہو رہی ہے اس طرح وہ مکمل نہیں ہو سکتی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا تا ایسے اصول پر ان کی تعلیم ہو سکے کہ وہ چوٹی کے علماء بن میں سکیں۔اور میں نے ان سے کہا کہ پہلے وہ صرف و نحو کی تعلیم حاصل کریں اور اس میں کامل بنیں کیونکہ یہ علم ہر دوسرے علم کے حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔اب ان میں سے بعض طالب علم ایسے مقام پر ہیں کہ دو تین ماہ میں اسے مکمل کر سکیں گے اور پھر اس سے دوسروں کو پڑھانے اور سکھانے کی قابلیت ان میں پیدا ہو جائے گی۔اب اللہ تعالیٰ نے جو انکشاف مجھ پر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ صرف و نحو کی تعلیم مکمل کر لیں تو ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے۔بعض کو فقہ کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، بعض کو حدیث کی ، مینی بعض کو تفسیر کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے اور اس طرح تین تین چار چار کو مختلف علوم کی تکمیل کرائی جائے۔اور پھر پانچ چھ ماہ یا سال کے بعد وہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے حاصل کر دہ علوم کی تکمیل کرا دیں اور جو جو علم کسی نے سیکھا ہو وہ دوسروں کو سکھا دیں اور اس طرح ان میں سے ہر ایک دوسرے کا شاگرد اور استاد بن جائے اور سب کے سب مختلف علوم میں کمال حاصل کر سکیں۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو اگر باری باری سارے علوم سکھائے جائیں تو کہ سب کے کامل ہونے تک وہ لوگ جماعت میں سے اُٹھ جائیں جو ان نوجوانوں کو تعلیم دیتے ہیں اس لیے ان کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے۔تین چار تفسیر قرآن سیکھنے میں لگ جائیں، تین چار حدیث سیکھنے میں، تین چار تصوف سیکھنے میں، تین چار علم کلام کے سیکھنے میں اور تین چار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے سیکھنے میں۔اور چونکہ ان سب کو ان سب علوم کا سکھانا ضروری ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک، ایک علم میں کمال ہو سکتا؟