خطبات محمود (جلد 25) — Page 210
$1944 210 خطبات محمود صورتِ حالات پر غور کر کے تجویز کی کہ حضرت ابو بکر کے پاس جا کر عرض کریں کہ یہ نازک وقت ہے، مدینہ پر مرتدین کی چڑھائی ہو رہی ہے اس لیے کچھ وقت کے لیے اسامہ کے لشکر کو روک لیا جائے تا پہلے وہ مرتدین کا مقابلہ کرے اور پھر امن قائم ہونے پر شام کی طرف چلا جائے۔وہ لوگ اس یقین اور وثوق کے ساتھ حضرت ابو بکر کے پاس گئے کہ اسلام کی بہتری اس تجویز میں ہے کہ اس لشکر کو روک کر پہلے مرتدین کا مقابلہ کر لیا جائے اور وہ سمجھتے تھے کہ ہے یہ ایسی عقل کی بات ہے کہ کوئی بے وقوف ہی اس کا انکار کر سکتا ہے۔پھر جن لوگوں نے یہ تجویز کی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشیر تھے۔چنانچہ وہ حضرت ابو بکر کے پاس ہے گئے اور کہا کہ ہم لوگ مشورہ کر کے آئے ہیں اور حضرت عمر نے یہ تجویز ان کے سامنے پیش ہے کی اور تفصیل کے ساتھ اسلام کی مشکلات کو پیش کیا اور حملہ کے خطرات بیان کیے اور کہا کہ میں ہم یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اسامہ کے لشکر کو کچھ عرصہ کے لیے روک لیا جائے تا پہلے مرتدین کا مقابلہ کیا جاسکے۔اس کے بعد پھر اس لشکر کو شام کی طرف بھیجا جا سکتا ہے۔جب حضرت عمررؓ اپنی بات ختم کر چکے تو حضرت ابو بکر نے کہا دوستو! آپ نے جو مشورہ دیا ہے وہ نہایت صحیح ہے مگر کیا ابو قحافہ کے بیٹے ابو بکڑ سے آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ خلیفہ ہونے کے بعد پہلا کام یہی کرے کہ جو لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجنا تجویز فرمایا تھا اُسے روک لے ؟ میں اپنی خلافت کا زمانہ اس تاریک باب سے شروع کرنے کو تیار نہیں ہوں۔اگر مرتدین مدینہ میں گھس آئیں اور مسلمان عورتوں کی لاشوں کو سنتے گلیوں میں تھیٹتے پھر یہ تب بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اس لشکر کو روک لوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا تجویز فرمایا تھا۔2 میں نے کہا یہ تو پہلی جماعت کا حال تھا۔ہم دوسری جماعت ہیں جس کی تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔کیا یہ مناسب ہے کہ آپ کی ہم وفات کے بعد پہلے ہی جلسہ پر ہم یہ مشورہ کریں کہ جو مدرسه خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے حکم سے قائم فرمایا اور جس کا مشورہ آپ نے خود بیٹھ کر دوستوں سے کیا اور جس کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب کی یادگار ہے تا سلسلہ کے لیے نئے علماء پیدا کیے جائیں ہم آپ کی وفات کے بعد پہلا کام