خطبات محمود (جلد 25) — Page 181
$1944 181 خطبات محمود شامل ہوتے رہتے ہیں اس لیے کچھ لوگوں کی تربیت ہوتی ہے تو اُن کے معا بعد کچھ اور لوگ آجاتے ہیں جو ابھی دین سے ناواقف ہوتے ہیں۔پھر انہیں سمجھانا پڑتا ہے۔اس پر کچھ لوگ سمجھ جاتے اور کچھ پھر بھی نہیں سمجھتے۔اسی طرح تربیت میں کئی قسم کے نقائص رہ جاتے ہیں۔مگر ہمارا کام یہی ہے کہ ہم انہیں سمجھائیں اور سمجھاتے چلے جائیں۔میں نے کئی دفعہ سنا ہے کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر جاتے اور وہاں سے تبرک کے ہے طور پر مٹی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ قبر پر پھول ڈال جاتے ہیں اور میں نے خود بھی ایک دو دفعہ وہاں پر پھول پڑے دیکھے ہیں اور اُٹھوائے ہیں۔یہ سب ناجائز باتیں ہیں، ناپسندیدہ حرکات ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم کسی کو ایسا کرتے دیکھیں تو اُسے روکیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جو چیزیں دین سے ثابت ہیں اور ہمارے لیے برکت کا موجب ہیں اُن کو بھی ہم ترک کر دیں۔جہاں تک قبروں پر جانے کا سوال ہے احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہا قبرستان میں جاتے اور دعائیں کرتے۔یہاں تک کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں مجھے ایک دفعہ شبہ پیدا ہوا کہ آپ رات کے وقت مجھے چھوڑ کر دوسری بیویوں کے ہے پاس چلے جاتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ایک دفعہ میں لیٹی ہوئی تھی۔میں نے دیکھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جوتیاں اُتاریں اور فرش پر لیٹ گئے۔میں بھی آنکھیں بند کر کے یہ لیٹی رہی اور دل میں میں نے سوچا کہ آج دیکھوں گی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں جاتے ہیں۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف دیکھتے اور معلوم کرتے کہ میں سوئی ہوں یا نہیں۔اِس سے مجھے اور شبہ پڑ گیا۔کچھ دیر کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ میں سوگئی ہوں تو آپ نے آہستگی سے بجوتیاں ہیں پہنیں اور چل پڑے۔میں بھی آپ کے پیچھے چلی مگر میں کیا دیکھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے مقبرہ میں پہنچ گئے اور وہاں آپ نے دعائیں مانگنی شروع کر دیں۔میں یہ دیکھتے ہی بھاگ کر گھر آگئی کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا پتہ نہ لگ جائے۔9 ،