خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 180

خطبات محمود 180 $1944 سیدھے طور پر توحید کے ایک مقام کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھ رہے تھے اب انہیں کیا ہو گیا کہ وہ ایک ایسے مقام کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں جہاں بُت رکھے ہوئے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کے اِس اعتراض کی پروا نہیں کی۔بے شک مشرکانہ خیالات کو روکنا ایک ضروری چیز ہے۔مگر ایک فائدہ والی چیز کو بالکل ترک کر دینا، اُس سے کسی حد تک فائدہ نہ اٹھانا اور یہ سمجھنا کہ اس طرح شرک کے خیالات قوم میں پھیل جائیں گے یہ بھی عقلمندی میں داخل نہیں۔اگر ایسا ہی ہو تا تو چاہیے تھا کہ جب تک خانہ کعبہ کے تمام بت توڑ نہ دیئے جاتے اُس وقت تک مسلمانوں کو اُس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم نہ دیا جاتا۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک کعبہ تمام بتوں سے صاف نہیں ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ایک دن یہ تمام بت توڑے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں توڑے جائیں گے۔پس وہ اگر چاہتا تو جس طرح پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھ رہے تھے اُسی طرح بعد میں بھی کچھ عرصہ تک پڑھتے رہتے اور اُس وقت تک خانہ کعبہ کی طرف منہ نہ کرتے جب تک خدا تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیتا۔مگر خدا نے اس بات کی کوئی پروانہ ہے کی کہ خانہ کعبہ میں بُبت موجود ہیں اور مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ وہ اُس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھا کریں۔پس بعض لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے کسی اچھے فعل کو ترک نہیں کیا تم جاسکتا۔ایسی غلطیاں بعض کمزور لوگوں میں ہمیشہ رہتی ہیں اور وہ منع کرنے کے باوجو د بھی باز نہیں آتے۔دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر کس قدر لعنتیں کی ہیں جو اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔8 مگر کیا اب مسلمانوں میں وہ لوگ موجود نہیں جو قبروں پر سجدے کرتے اور مردوں سے دعائیں مانگتے ہیں ؟ ان چیزوں کو دیکھ کر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جو چیزیں ضروری ہیں انہیں بھی چھوڑ دیا جائے۔مجھے بتایا گیا ہے بلکہ پہلے بھی میرے علم میں یہ بات تھی کہ بعض لوگ ہماری ہمیں جماعت میں ایسے ہیں جو بعض مشرکانہ حرکات کرتے ہیں۔ہماری جماعت چونکہ ایک دریا کی طرح ہے ایک پانی گزرتا اور اس کی جگہ دوسرا پانی آجاتا ہے یعنی نئے نئے لوگ جماعت میں میں