خطبات محمود (جلد 25) — Page 83
خطبات م محمود 83 $1944 سو خدا نے اپنا کام کر دیا اور میری تحریروں پر اپنی مہر تصدیق کر دی اور اگر اُس کی مشیت کچھ اور کام کروانے والی ہے تو وہ کام بھی ایک دن دنیا کے سامنے آجائے گا۔یہ چیز ہے جو اس پیشگوئی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔اگر کوئی شخص اس پیشگوئی کی عظمت کو نہیں سمجھتا تو وہ خدا کے سامنے خود جواب دہ ہے اور اگر کوئی شخص اس کا نیا نام رکھتا اور کوئی نیا عہدہ اس کے لیے تجویز کرتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ عہدہ وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف۔آئے۔اگر کوئی شخص اس بارہ میں خود قیاس کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہیں کرتا بلکہ اس کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتا ہے۔جو کچھ خدا نے کہا ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں اُس کے سے زیادہ کچھ کہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔بلکہ میں نے تو اس بارہ میں اتنی احتیاط کی کہ جو پیشگوئیاں پوری ہو رہی تھیں میں نے ان سے بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں اور میں نے کہا جب تک خدا مجھے نہیں بلوائے گا میں ان پیشگوئیوں کے متعلق کچھ نہیں کہوں گا۔میں نے اپنے دل میں کہا اگر میرے چپ رہنے سے ان پیشگوئیوں کی عظمت ثابت ہوتی ہے تو پھر میرے بولنے سے کیا فائدہ۔اور اگر میرے بولنے کے بغیر ان پیشگوئیوں کی عظمت ثابت نہیں ہو سکتی تو بلوانے والا آپ بلوا لے گا۔میں خود کیوں بولوں ؟ پس اگر میرے نہ بولنے سے ہے خدا تعالی کا منشاء پورا ہو جاتا تھا تو میرا بولنا عوہ ادبی اور کبر تھا اور اگر میرے چپ رہنے سے نہیں بلکہ بولنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء پورا ہو تا تھا تو پھر جس کا یہ کام تھا اُسی کا یہ بھی کام تھا کہ وہ میری زبان کھلواتا۔چنانچہ جب وقت آیا، اُس نے یہ بات مجھے بتا دی اور نہ صرف بات بتا دی بلکه ارشاد فرمایا کہ اب میں اور لوگوں کو بھی یہ بات بتلا دوں۔اور نہ صرف اُس نے مجھے یہ ارشاد کیا بلکہ اپنے فضل سے ایسے حالات بھی پیدا فرما دیئے جو اس پیشگوئی کی صداقت کے لیے بطور دلیل کے ہیں۔جس طرح آسمان پر جب چاند چمکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارد گر دستارے پیدا کر دیا کرتا ہے اسی طرح ان ایام میں بہت سے لوگوں کو ایسی خوابیں آئی ہیں جن میں اسی خواب کا مضمون دُہرایا گیا ہے جو میں نے دیکھی تھی۔چنانچہ ابھی میں لاہور میں ہی تھا کہ میری رؤیا کے بعد ایک دوست نے جن کا نام ڈاکٹر محمد لطیف صاحب ہے مجھے بتایا کہ انہوں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک فرشتہ میرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ انبیاء و رسل کے ساتھ