خطبات محمود (جلد 25) — Page 738
$1944 738 خطبات مج محمود میں ہم بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پرسوں ہی انگلستان کی قربانیوں کی فہرست شائع ہو رہی ہے جو اس نے جنگ کے دوران میں کہیں۔ان کو پڑھ کر حیرت آجاتی ہے۔جتنی قربانیاں انہوں نے اپنے ملک کو بچانے کے لیے کی ہیں وہ ہمارے لیے قابل غور ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی جنگ چند سال کے لیے ہے اور ہماری جنگ ہمیشہ کے لیے ہے مگر پھر بھی یہ تو مد نظر رکھنا چاہیے کہ ہماری ہے قربانیوں کو ان کی قربانیوں سے کوئی نسبت تو ہو۔انگلستان، سکاٹ لینڈ اور ویلز کی آبادی ساڑھے چار کروڑ کی ہے اور اس پانچ سال کے عرصہ میں ساڑھے چار کروڑ کی آبادی میں سے ہے پینتالیس لاکھ سپاہی انہوں نے تیار کیا ہے۔یعنی ہر دس آدمیوں میں سے ایک آدمی سپاہی بنایا گیا ہے۔ان کے ہاں دنیا کی جنگ میں جو مقام سپاہی کا ہے وہی مقام ہمارے ہاں دینی جنگ میں مبلغ کا ہے۔اگر اسی لحاظ سے ہماری جماعت مبلغ تیار کرے تو ہندوستان کی ساڑھے تین لاکھ کی آبادی میں سے پینتیس ہزار مبلغ ہونے چاہئیں۔کجا پینتیس ہزار مبلغ اور کجا مبلغوں کی موجودہ ہے تعداد۔اس وقت ساری کی ساری مبلغوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔پس جب اِس چھوٹے سے ملک نے جس کی زمین پر دشمن نے حملہ کیا، جس کے جسم پر دشمن نے حملہ کیا تو ہے اس حملہ کے دفاع کے لیے اس ملک نے اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دیا اور ساڑھے چار کروڑ کی آبادی میں سے پینتالیس لاکھ سپاہی گویا گل آبادی کا دسواں حصہ سپاہی تیار کیے۔اگر ہماری جماعت کو بھی خدا تعالیٰ توفیق دے اور دین کی جنگ کے لیے ہم پینتیس ہزار مبلغ تیار کر لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ پانچ دس سال میں ہی ہندوستان کی کایا پلٹ جائے اور پھر لاکھوں ہزاروں کا ہے سوال ہی نہ رہے بلکہ ایک معقول عرصہ میں ہندوستان میں احمدیوں کی اکثریت ہو جائے۔پھر انگلستان پر جو تباہی اور بربادی آئی ہے اسے پڑھ کر حیرت ہوتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انگلستان کا کچھ بھی نہیں رہا۔انگلستان میں گل ڈیڑھ کروڑ مکان ہیں اور ڈیڑھ کروڑ مکانوں میں ساڑھے چار کروڑ آدمی رہتا ہے۔اس پانچ سال کے عرصہ میں یہ راز انگلستان کی حکومت نے مبین چھپائے رکھا جسے اب ظاہر کیا گیا ہے کہ پانچ سال کی جنگ میں انگلستان کے مکانوں کا ایک تہائی تی حصہ جرمنی کی بمباری سے تباہ ہو ا یعنی پینتالیس لاکھ مکان برباد ہو گئے ہیں۔پھر ان لوگوں کی ہے