خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 737 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 737

$1944 737 خطبات محمود اُن میں بہت ساری ایسی ہیں جو نو مسلموں کی جماعتیں ہیں۔بہت ساری ایسی جماعتیں ہیں جو غیر تعلیم یافتہ ہیں۔مغربی افریقہ میں ساٹھ ستر ہزار کے قریب احمدی ہیں اور ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے ننگے پھرا کرتے تھے۔اب اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے انہوں نے کپڑے پہنا شروع کیے ہیں۔بہت سارے ایسے ہیں جو جنگلوں میں رہتے ہیں اور اُن کی کوئی آمدنی نہیں۔اُن کی خوراک یہ ہے کہ سارا سال مکئی کا آٹا بھون کر پانی میں بھگو کر استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کی آمد کیا ہو گی اور وہ ہماری کیا مدد کر سکتے ہیں۔بہت سی بیرونی جماعتیں ایسی بھی ہیں جو بوجھ اٹھا رہی ہیں مگر اُن کا بوجھ اٹھانا محض اخلاص کے اظہار تک محدود ہے۔پس اصل بوجھ ہندوستان پر ہے جس میں ہماری تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے۔تو ساڑھے تین لاکھ میں سے کمانے والا چالیس پچاس ہزار آدمی ہے جس کا مقابلہ ساری ہے دنیا کی دو ارب آبادی سے ہے۔اور یہ آبادی ایسی نہیں جو ہمارے کام کو محبت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ایسی آبادی نہیں جو ہمارے کام کو بے توجہی سے دیکھتی ہے بلکہ یہ دو ارب آبادی ایسی ہے جس کا اکثر حصہ جتنی ہمیں مٹانے کی کوشش کرتا ہے اُتنی ہی اُسے راحت محسوس ہوتی ہے۔پس اتنے بڑے دشمن کے مقابلہ میں اتنی تھوڑی سی جماعت جب تک اپنی قربانیوں کو انتہا تک ہے نہ پہنچا دے اُس وقت تک کامیابی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔اور اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دینے پر بھی کامیابی اس لیے نہیں ہوگی کہ ہم نے اس کام کے برابر قربانی کر دی ہے بلکہ اس می لیے ہو گی کہ جب ہم اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دیں گے تو آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے جو یہ کام کریں گے۔اور پھر بھی کامیابی ہمارے ہاتھ سے نہیں ہو گی بلکہ خدا کے ہاتھ سے ہو گی۔پھر بھی کامیابی اُن تدبیروں کی وجہ سے نہیں ہو گی جو ہم زمین پر کریں گے بلکہ اُن تدبیروں سے ہو گی جو ہمارا خدا عرش پر کرے گا۔اور اگر ایک دن نہیں، ایک گھنٹہ نہیں، ایک منٹ نہیں بلکہ ایک سیکنڈ بھی ہمارے دل میں یہ خیال پید اہوتا ہے کہ ہم اپنی کوششوں اور اپنی تدبیروں سے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ہمارے مجنون ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کے لیے جب تک ہم اپنے آپ کو مردوں کی طرح اس کے دروازہ پر نہ ڈال دیں اس وقت تک اس کا فضل کھینچنے مہم