خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 656

$1944 656 خطبات محمود صرف دنیا ہی دنیا ان کے پاس رہ گئی دین اور مذہب کے ساتھ اُن کا کوئی تعلق نہ رہا۔(3) ان دونوں اصول کے خلاف اسلام نے ایک اور تعلیم بنی نوع انسان کے سامنے پیش کی ہے اور وہ یہ کہ اسلام کہتا ہے ہم دنیا کمانے سے تمہیں منع نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں مال کا نام فضل اللہ رکھا گیا ہے 2 اور بتایا گیا ہے کہ مال و دولت کا میسر آنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل اور اُس کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے۔پس اسلام دنیا کمانے اور مال و دولت حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔اسلام کہتا ہے کہ بے شک تم دنیا کماؤ مگر کماؤ اسلام کے قواعد کے نیچے رہتے ہوئے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ تم اسلامی احکام سے الگ ہو کر دنیا کمانے میں مشغول ہو جاؤ۔تم دنیا کما سکتے ہو مگر اسلامی قواعد کی پابندی اور ان کی اپنے اطاعت کرتے ہوئے۔اگر ان احکام کی پابندی کرتے ہوئے تم دنیا کماؤ تو ہم تمہیں اس سے ہم روکتے نہیں۔لیکن اگر تم ان قواعد کو توڑ کر دنیا کماؤ تو ہم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ تم مذ ہبی آدمی ہے ہو۔ایسی حالت میں تم مذہب کو چھوڑنے والے قرار پاؤ گے اور مذہب کی طرف منسوب ہونا ہے تمہارے لیے جائز نہیں ہو گا۔وہ ہدایتیں جو اسلام دنیا کمانے کے متعلق دیتا ہے یا مال و دولت اپنے پاس رکھنے والوں کے متعلق دیتا ہے اُن میں سے بعض تجارت اور صنعت کے ساتھ خاص طور پر تعلق رکھتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو ہر ایسے شخص کے متعلق ہیں جس کے پاس کسی قسم کا مال ہو خواہ اس نے می کسی اور ذریعہ سے ہی کیوں نہ کمایا ہو۔اور چونکہ میں اس وقت صرف تجارت اور صنعت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اس لیے میں نے ان دونوں باتوں کو جمع کر دیا ہے۔وہ باتیں بھی جو خاص طور پر تجارت اور صنعت کے متعلق ہیں اور وہ باتیں بھی جو ہر اُس شخص کے متعلق ہیں جو کسی ذریعہ سے مال کمائے یا مال اس کے پاس آجائے۔وہ قوائد جو اسلام نے تجویز کیے ہیں اور ہے جن کو پیش کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ صنعت و تجارت منع نہیں مگر بعض حدود کے اندر لوگوں کو رہنا چاہیے اگر وہ اسلامی حد بندی کے اندر ہیں اور اس کے لیے مفید اور نفع رساں وجود بنیں تو تجارت اور صنعت جائز ہے۔ورنہ یہ ایک ایسی چیز ہو گی جو روکنے کے قابل ہو گی۔سارے کے سارے اصول تو میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔صرف چند موٹے موٹے