خطبات محمود (جلد 25) — Page 657
خطبات محمود 657 $1944 اصول جو اسلام نے بیان کیے ہیں اُن کو میں جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں۔پہلا قاعدہ قرآن کریم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر مسلمان رہتے ہوئے لوگ مال کمانا چاہیں تو ان کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ لا تلهيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللهِ 3 : مومنوں کو بیع و شرا خدا تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں کر سکتے۔پس مومن کہلانے والے بے شک تجارت کریں ، وہ بے شک خرید و فروخت کریں مگر یہ چیزیں دین کے راستہ میں روک ہے نہیں ہونی چاہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر کے راستہ میں تجارت اور بیج وغیرہ حائل نہیں ہونی چاہیے۔اگر ایک شخص صنعت و حرفت کے ذریعہ مال کمانا چاہتا ہے تو اسلام کہتا ہے بے شک تم مال کماؤ اور بے شک صنعت و حرفت اختیار کرو مگر دیکھو اس کے ساتھ ہی تمہیں پانچوں وقت نماز کے لیے مسجد میں آنا پڑے گا۔یا اگر ایک شخص تجارت کرنا چاہے تو اسلام میں کہے گا بے شک تجارت کرو مگر تمہیں پانچ وقت روزانہ اپنی دکان بند کر کے مسجد میں آنا پڑے گا۔اسی طرح اگر تجارت اور صنعت و حرفت کرتے ہوئے روزوں کے ایام آجاتے ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم روزے رکھو۔یہ نہ کہو کہ تجارت یا صنعت و حرفت میں مشغول رہنے کی وجہ سے روزے رکھنے ہمارے لیے مشکل ہیں۔اگر یہ چیزیں نماز کے رستہ میں روک بنتی ہیں۔اگر ہے یہ چیزیں روزوں کے رستہ میں روک بنتی ہیں۔اگر یہ چیزیں اور کئی قسم کے دینی کاموں میں ہے روک بنتی ہیں تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ ان کاموں کو چھوڑ دو اور اپنے دین کو خراب ہونے سے محفوظ رکھو۔لیکن اگر یہ چیزیں دین کے راستہ میں روک نہیں تو پھر بے شک دنیا کماؤ اسلام تمہیں اس سے منع نہیں کرتا۔اسی طرح ذکر الہی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ پانچ نمازوں کے علاوہ ہے اپنے اوقات میں سے کچھ وقت نکال کر علیحدگی میں خدا تعالیٰ کو یاد کیا کرو، اُس کی حمد کرو، اُس کی تسبیح کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، اس کی صفات پر غور کرو، اپنے نفس کو الہی احکام کا تابع ہے کرنے کی کوشش کرو اور اپنے قلب کو ہر قسم کی کدورتوں اور ہر قسم کے میل کچیل سے صاف ا کر کے ایک ایسا مصفی اور روشن آئینہ بن جاؤ جس میں خداتعالی کا چہرہ منعکس ہو جائے اور خدا کی صفات کا ظہور تمہارے ذریعہ سے ہونے لگے۔اگر تم ایسا کرتے ہو تو پھر بے شک تم اچھے لوہار بنو ، اچھے تاجر بنو ، اچھے صناع بنو، اچھے کارخانہ دار بنو اور خوب مال کماؤ ہماری طرف سے