خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 651

خطبات محمود 651 $1944 ہچکچاتے ہیں، جن کے پاؤں میں ثبات نہیں اور جن کے ارادوں میں مضبوطی نہیں ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اخلاص سے حصہ عطا فرمائے، اُن کے دلوں میں دین کے لیے قربانی اور اُس کی رضا کے لیے مر مٹنے کا جوش بے انتہاء طور پر پیدا فرمائے، اُن کی غفلتوں کو دور فرمائے اور اُن کی کمزوریوں کو نیکیوں سے بدل دے تاکہ وہ ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جائیں اور خدا تعالی کی آواز سن کر آگے کی طرف بڑھیں۔پیچھے کی طرف بنے ہے والوں میں سے نہ ہوں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ خدا تعالیٰ کا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے ہم نے نہیں کرنا اور ہم یہ بھی یقین ہے رکھتے ہیں کہ جس بات کے کرنے کا خدا تعالیٰ ارادہ کرلے وہ ہو کر رہتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 2 سیہ ملنے والی بات نہیں۔خدا تعالی کا فیصلہ ہے جو آخر ہو کر رہے گا۔ہماری غفلتیں اس فیصلہ کو روک نہیں سکتیں۔ہاں اگر ہم کوشش کریں تو ہمارے لیے یہ ایک ثواب کی بات ہوگی ہے اور ہم بھی لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے قرار پا جائیں گے۔ہماری خواہش تو یہ ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی شہداء میں شامل فرمائے وہ شہداء جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے جلال اور اُس کے جمال کا جھنڈادنیا میں بلند کیا جاتا ہے۔جو اس کے عشق اور محبت کی ایک غیر فانی یادگار ہوتے ہیں اور جن پر ابد تک خدا تعالیٰ کی رحمتیں برستی رہتی ہیں لیکن جب تک ہمیں ان حقیقی شہداء میں شامل ہونے کا موقع میسر نہیں آتا ہمیں کم سے کم اتنی کوشش تو کرنی چاہیے کہ ہم می لہو لگا کر ہی شہیدوں میں شامل ہو جائیں۔اگر آج ہم لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ہماری یہی قربانی آئندہ بہت بڑی قربانیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گی کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے جب خدا تعالی کی طرف سے ایک آواز بلند ہو گی اور مومنوں کو اپنی تم جانیں اسلام اور احمدیت کی حفاظت کے لیے اُس کے آستانہ پر قربان کر دینی پڑیں گی