خطبات محمود (جلد 25) — Page 648
خطبات محمود 648 $1944 جائیں گی اور اس طرح اندازہ سے زائد جو اخراجات ہوں گے وہ اِنشَاءَ اللہ پورے ہو جائیں گے۔لیکن اگر روپیہ خدانخواستہ کم اکٹھا ہوا تو پھر قرآن کریم کے تراجم کو مقدم رکھا جائے گا۔اگر قرآن کریم کے تراجم اور ان کی اشاعت کے اخراجات کے بعد روپیہ بچا تو وہ دوسری کتب کے ترجمہ اور اُن کی اشاعت پر خرچ کیا جائے گا ورنہ جس قدر روپیہ باقی بچا اُسی کے مطابق کتابیں شائع کی جائیں گی یعنی جس قدر زبانوں میں اِس وقت ترجمہ کرایا جائے گا جب ان کے لیے روپیہ ہمارے پاس جمع ہو گا۔بہر حال مقدم قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کی اشاعت ہو گی۔اور چونکہ یہ کام اپنے اندر بہت بڑی وسعت رکھتا ہے اور ہر جماعت اپنے اپنے حلقہ کی خود نگرانی نہیں کر سکتی اس لیے میں ایک دفعہ پھر دفتر تحریک جدید کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس تحریک کی نگرانی کرنا، اس کی کامیابی کے لیے متواتر جد و جہد کرنا، لوگوں سے چندہ وصول کرنا، ان کا با قاعدہ حساب رکھنا اور وعدہ کرنے والوں کو اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہنا یہ تحریک جدید کے مرکزی کارکنوں کا فرض ہے۔صرف مقامی جماعتوں پر ہی اس کی ذمہ داری نہیں۔بے شک وہ جماعتیں بھی ذمہ دار ہوں گی کہ اِس بوجھ کو اٹھائیں مگر مرکز اپنی نگرانی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔میں اس موقع پر پھر یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میری طرف سے وہ شرط برابر قائم ہے جس کا میں ایک دفعہ پہلے بھی اعلان کر چکا ہوں کہ اگر کوئی جماعت اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتی تو وہ بیشک ہمیں اطلاع دیدے۔ہم یہ انعام اُس کی بجائے کسی اور کو دے دیں گے۔لیکن اگر وہ جماعتیں خوشی سے اس بوجھ کو اُٹھا لیتی ہیں تو اس کے بعد گو اصل ذمہ داری ان جماعتوں پر بھی عائد ہو گی اور ان کا یہ ذاتی فرض ہو گا کہ وہ ہمیں اپنے وعدوں کو پورا کریں اور چندوں کی ادائیگی کی کوشش کریں۔لیکن مرکز اپنی ذمہ داری سے فارغ نہیں ہو گا۔بلکہ مرکز کی ذمہ داری ان کے ساتھ شامل ہو گی۔مرکز کو اس تحریک کے ہے متعلق اس طرح کوشش کرنی چاہیے کہ گویا ان علاقوں پر کوئی ذمہ داری نہیں۔اور ان علاقوں میں ہے رہنے والوں کو اس تحریک کے متعلق اس طرح کوشش کرنی چاہے کہ گویا مر کز پر کوئی ذمہ داری ہے نہیں۔یہ ذمہ داری جو مرکز پر عائد کی جارہی ہے میری طرف سے ہے۔جماعتوں کا یہ حق نہیں ہو گا کہ وہ بعد میں یہ کہیں کہ چونکہ مرکز نے ہماری مدد نہیں کی تھی اِس لیے ہم