خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 614

خطبات محمود 614 $1944 گل چندہ کی آمد سات لاکھ ہے تو جنگ کے بعد پانچ لاکھ یا چار لاکھ رہ جائے گی۔گو میرا اندازہ ہے کہ اگر محکمہ بیت المال زور دے تو موجودہ آمد زیادہ ہو سکتی ہے اور اگر وہ محنت کرے تو جنگ کے ایام میں ایک بڑا ریزرو فنڈ جمع کر لینے کے علاوہ وہ انجمن کا معمولی چندہ بھی اتنا زیادہ کر سکتا ہے کہ ریز روفنڈ کی مدد لینے کی ضرورت ہی کبھی نہ پیش آئے۔بہر حال خطرے کا موقع آرہا ہے۔اگر ہم آج سے ہی اس کا مقابلہ کرنے کا عزم اور ارادہ پیدا نہ کریں تو نئی سکیموں پر عمل کرنا تو ایک طرف رہا پرانے کاموں کا چلانا بھی مشکل ہو گا۔میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی اس وقت تک جو جائدادیں وقف ہو چکی ہیں اتنے وہ ساٹھ لاکھ روپیہ کی ہیں۔ابھی پانچ چھ سو آدمی ایسے بھی ہیں جنہوں نے وقف جائیداد کے فارم نہیں بھجوائے۔ان کو شامل کر کے ایک کروڑ روپیہ کی جائدادیں وقف ہو چکی ہیں اور صحیح حسابی نقطہ نگاہ سے سواکروڑ روپیہ کی۔کیونکہ کچھ آمد نیاں بھی وقف ہیں اور ہم نے ان کو اتنا ہی شمار کیا ہے جتنی کہ آمدنی ہے۔حالانکہ جائیداد اور آمدنی میں فرق ہے۔جائیداد سے اس کی منی مالیت کا بیسواں حصہ آمدنی ہوتی ہے۔سوروپیہ کی جائیداد ہو تو اس سے پانچ روپیہ کی آمد درست سمجھی جاتی ہے۔پس اس کے بر خلاف اگر پانچ روپیہ کی آمد وقف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سو روپیہ کی جائیداد وقف ہو گئی۔چونکہ ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ کی آمد وقف ہو چکی ہے اس لیے حسابی لحاظ سے ہم کہیں گے کہ چھیں لاکھ روپیہ کی جائیداد و قف ہو گئی ہے۔اس حساب سے بجائے نوے لاکھ کے ایک کروڑ سترہ لاکھ کی جائیداد وقف ہو چکی ہے۔ابھی جماعت میں بہت ساحصہ باقی ہے اگر وہ بھی اس امر کو سمجھیں کہ یہ چیز بہت ضروری ہے تو یہ ہے وقف جائیداد کا فنڈ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔زمیندار طبقہ نے اس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔اس وقت تک جس قسم کے لوگوں نے سوا کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف کی ہیں ان کے مقابلہ میں صرف سرگودھا، لائل پور اور منٹگمری کے علاقوں میں ایک کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہو سکتی ہیں۔بہر حال اس وقت تک ایک کروڑ ستر و لاکھ روپیہ کی جائیدادیں می وقف ہو چکی ہیں۔اگر کسی وقت ہم اس کے پانچ فیصدی کا مطالبہ کریں تو اس کے معنے م ہیں سوا چھ لاکھ یا اس سے زیادہ روپیہ ہم ضرورت کے وقت مہیا کر سکتے ہیں۔اور اگر