خطبات محمود (جلد 25) — Page 558
$1944 558 محمود لٹکی ہوئی ہو اور اگر اُس تاگے کو توڑ دو تو وہ چیز گر کر ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح ہم میں اور مجنون میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ کہ ہمارا د عوای الہی الہام کی بنیادوں پر قائم ہے۔ورنہ ہماری سب باتیں مجنونوں سے ملتی ہیں، پاگلوں سے ملتی ہیں، دیوانوں سے ملتی ہیں اور ہم میں اور ان کی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔اور چونکہ دنیا میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اس بات کے قائل نہیں اور وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ خدا نے ایسا کہا ہے اس لیے جب وہ ہمارے منہ سے ان باتوں کو سنتے ہیں تو وہ ہمیں پاگل اور مجنون کہتے ہیں۔ہم خود بھی اپنے سارے حالات کے لحاظ سے اپنے آپ کو مجنون ہی کہتے ہیں۔لیکن اس عقیدہ کی وجہ سے کہ خدا نے یہ باتیں ہمیں کہی ہے ہیں۔ہم حقیقتا پاگل نہیں ہیں۔مگر دوسری طرف اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر جب تک واقع میں ایک جنون کی سی کیفیت پیدا نہ ہو جائے اور جب تک پاگلوں ہے کی طرح ہر وقت یہ مقصد لوگوں کے سامنے نہ رہے کہ ہم نے خدا کا نام دنیا میں پھیلانا ہے ، ہم نے خدا کے دین کو دنیا میں قائم کرنا ہے اُس وقت تک اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک دائمی سنت ہے جس کا اُس نے اِن الفاظ میں اظہار فرمایا ہے کہ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَۂ یعنی فتح تو ہو گی مگر اُسی صورت میں جب تم رات اور دن اور صبح اور شام اس کام میں مشغول رہو گے اور اپنی تو جہات کا نقطہ مرکزی صرف اسی امر کو ٹھہراؤ گے کہ تم نے اسلام کو قائم کرنا ہے، تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو دنیا میں روشن کرنا ہے۔اسی لیے میں نے جماعت کو کچھ عرصہ سے تین مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ جماعت کا سارازور اور اس کی طاقت اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں صرف ہو۔اسلامی عقائد کے قیام میں وہ مشغول ہو جائے اور اعمال خیر کی ترویج میں اس کی تمام مساعی صرف ہونے لگ جائے۔جماعت کے یہ تین اہم ترین حصے انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ ہیں۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جس قسم کا کوئی آدمی ہوتا ہے اسی قسم کے لوگوں کی وہ نقل کرنے کا عادی ہوتا ہے۔بوڑھے عام طور پر بوڑھوں کی نقل کرتے ہیں اور یہ نوجوان عام طور پر نوجوانوں کی نقل کرتے ہیں اور بچے عام طور پر بچوں کی نقل کرتے ہیں۔میں