خطبات محمود (جلد 25) — Page 515
خطبات محج محمود 515 $1944 ادنی بشاشت ایمان ہے۔5 جب انسان کے سر پر آرہ رکھ کر اُس کو چیر دینا اور اُس کا متزلزل نہ ہونا ادنی بشاشت ایمان ہے تو پھر اعلی کیا ہو گی۔دنیا میں یہ انتہاء درجہ کی جسمانی سزا ہے کہ انسان کے سر پر آرو رکھ کر اسے چیر دیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ سیہ ادنی بشاشت ایمان ہے کہ انسان اس سزا کو قبول کر لے۔پس معلوم ہوا کہ جب انسان غیر اللہ کو چھوڑ کر خدا کے دروازہ پر جا پہنچتا ہے تو پھر کوئی چیز اسے وہاں سے نہیں ہلا سکتی۔اس میں کے سر پر آرو رکھ کر اس کو چیر دیا جائے تب بھی وہ اس مقام سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور کوئی ہے چیز اسے وہاں سے متزلزل نہیں کر سکتی۔بدر کی جنگ کے موقع پر ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا۔وہ اس کی تلاش میں ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر بھاگی پھرتی تھی۔راستہ میں جو بچہ بھی اسے مل جاتا وہ اپنی تڑپ اور محبت ہے کی وجہ سے اُس بچہ کو گلے سے لگا لیتی۔تھوڑی دیر پیار کرتی اور پھر اُسے چھوڑ کر آگے چلی جاتی۔یہاں تک کہ جب اس کا اپنا بچہ مل گیا تو اسے لے کر وہ اطمینان سے بیٹھ گئی۔اسی طرح انسان پہلے غیر اللہ کو اپنا معبود سمجھ کر غلط فہمی میں اُس سے پیار کرتا ہے مگر پھر اُس کو چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ لا الہ سے گزر کر إِلَّا اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور پھر وہاں سے نہیں جانتا۔راستہ میں چلنے پہنے والا انسان ہلتا رہتا ہے۔مگر جو اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جائے وہ نہیں ہلا کرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کفار مکہ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ ہم تمہارے بھتیجا کی ہے باتیں سن سن کر تنگ آگئے ہیں۔آئے دن ہمارے معبودوں کی جو ہتک کی جاتی ہے اب ہم اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔اس لیے یا تو آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ان باتوں سے باز آجائے اور یا آپ اس کی حفاظت چھوڑ دیں۔ابو طالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا ت ے بھیجے ! آج قریش کے سردار میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا ہے کہ یا تو تم ا۔بھتیجے کو سمجھاؤ کہ وہ ہمارے معبودوں کی بہتک سے باز آ جائے اور یا تم اس کی حفاظت چھوڑ دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے چا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تب بھی میں اُن باتوں کے کہنے سے نہیں رک سکتا جن کا کہنا خدا کی طرف سے مجھ پر فرض ہے۔پس اپنی جگہ پر پہنچی ہوئی چیز کہاں مل سکتی ہے۔