خطبات محمود (جلد 25) — Page 501
خطبات مج محمود 501 $1944 میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان سات مقامات کی مساجد بنانے کے لیے مرکزی جماعت کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔میرا اندازہ ہے کہ ان سات جگہوں پر کم از کم سات لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔چالیس پچاس ہزار روپیہ ایک مسجد کے لیے زمین خریدنے پر اور چالیس پچاس ہزار روپیہ اوپر کی عمارت پر کم از کم خرچ آئے گا۔کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں کہ شاید وہاں پر کم خرچ ہو۔مثلاً ہے کراچی میں زمین نسبتا سکتی ہے۔اب تو شاید جنگ کی وجہ سے وہاں بھی مہنگی ہو گئی ہو۔اس نے طرح ممکن ہے پشاور میں بھی کم خرچ ہو۔لیکن بمبئی اور کلکتہ میں لاکھ یا سوالا کھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔پس اوسط اندازہ سات لاکھ روپے کا ہے۔بعض جگہوں پر وہاں کی مقامی جماعت کی طرف سے بھی کافی رقم اکٹھی ہو جائے گی۔مثلاً بمبئی کی جماعت بھی کچھ رقم دے گی اور کچھ حیدر آباد والے بھی جو بمبئی سے خاص تعلق رکھتے ہیں۔اِس کام میں بمبئی کی ، کریں گے ، باقی رقم مرکز چندہ کر کے ادا کرے گا۔کلکتہ کی جماعت نے تو پچاس ہزار روپیہ زمین کے لیے جمع کر لیا ہے اور انہوں نے امید دلائی ہے کہ اوپر کی عمارت کے لیے بھی ہم اور رقم ہے جمع کریں گے تو گویا بہت ساری رقم وہاں سے ہی مل جائے گی اور شاید تھوڑی مدد ہمیں دینی پڑے۔اسی طرح دہلی کی جماعت نے تیس ہزار کے وعدے بھیجے ہیں۔وہاں بھی چالیس ہزار میں کی زمین خریدی جارہی ہے۔امید ہے کہ زمین کی قیمت وہاں کی جماعت خود ہی ادا کر دے گی۔في الحال ہم نے اُن کو زمین خریدنے کے لیے روپیہ قرض دے دیا ہے۔امید ہے کہ اس جگہ کی مسجد کے لیے اور یہاں پر مرکز قائم کرنے کے لیے کچھ روپیہ وہاں کی مقامی جماعت اور دے دے گی اور کچھ حصہ ہمیں مرکزی ذمہ داری کے ماتحت ادا کرنا پڑے گا۔پس بمبئی، کلکتہ می اور دہلی میں کام شروع ہو چکا ہے۔کراچی میں بھی جلدی شروع ہو جائے گا۔ہماری جماعت کے بہت سے دوستوں کی سندھ میں زمینیں ہیں۔ممکن ہے سارا یا بہت سا حصہ وہاں سے پورا ہو جائے۔لاہور میں بھی ہمیں وقت پر ستی زمین مل گئی تھی وہاں پر اچھی وسیع مسجد بن جائے گی۔باقی مدراس اور پشاور میں ابھی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ ارادہ کی دیر ہے۔اس طرح اگر خدا چاہے تو ایک دو سال میں ان سات مقامات پر ہمارے مرکز قائم ہو سکتے ہیں۔