خطبات محمود (جلد 25) — Page 410
خطبات محمود 410 $1944 آپ کو کیا الہام ہوئے؟ اُس نے کہا یہی کہ کبھی مجھے کہا جاتا ہے تو موسیٰ ہے، کبھی کہا جاتا ہے نوح ہے، کبھی کہا جاتا ہے تو عیسی ہے، کبھی کہا جاتا ہے تو ابراہیم ہے، کبھی کہا جاتا ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے ہر نبی کو کچھ نہ کچھ خاص کمالات دیے ہیں اگر تم کو خدا تعالیٰ نے فی الواقع موسٰی، عیسی، نوح، ابراہیم اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرار دیا ہے تو کیا اُن کے کمالات بھی دیے ہیں ؟ کیا جب تمہیں نوح کہا جاتا ہے تو نوح کی طرح کشتی بھی عطا کرتا ہے؟ جب موسیٰ کہتا ہے تو کیا ید بیضاء بھی اُس نے عطا کیا ہے؟ جب ابراہیم کہتا ہے تو کیا احیائے موتی کا معجزہ بھی دکھاتا ہے؟ یا جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مکمل اور کامل کتاب نازل کی اُس کے معارف اور باریکیاں بھی سمجھاتا ہے ؟ کہنے لگا کہتا تو ہے کہ تو محمد ہے، تو ابراہیم ہے، تو موسیٰ ہے، تو نوح ہے مگر دیتا کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا پھر آپ کو سمجھنا چاہیے کہ شیطان آپ کو دھوکا دے رہا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ جب کسی کو کوئی منصب دیتا ہے تو اُس منصب کے مطابق انعامات بھی نازل کرتا ہے۔وہ کسی کو دھوکا نہیں دیتا۔پس مصلح یا تو وہ ہو گا جو پہلے نبی کے تسلسل کو جاری رکھنے والا ہو گا یا نئی شریعت یا شریعت کی نئی تفسیر لانے والا می ہو گا۔اگر وہ صاحب شریعت ہونے کا مدعی ہو گا تو اُسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ پہلی شریعت میں یہ یہ بگاڑ پیدا ہو گیا تھا اور اُس کی میں نے یہ اصلاح کی ہے۔جب میں ولایت گیا تو مجھے ایک عورت ملنے کے لیے آئی جو بہائی تھی۔میں نے اُسے کہا بہاء اللہ جو شریعت پیش کرتا ہے اُس کی ضرورت ہی کیا ہے۔قرآن کریم ہر دینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ہاں اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ کوئی ضرورت ایسی ہیں ہے جسے قرآن کریم پورا نہیں کرتا یا اس میں کوئی نقص ہے جسے بہاء اللہ نے آکر ڈور کر دیا ہے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگی قرآن مجید میں لکھا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔یہ قابل اصلاح بات ہے اور بہاء اللہ نے ایک ہی شادی جائز قرار دی ہے۔میں نے کہا دلیل تو نہایت ناقص ہے۔کیونکہ خاتم شریعت نبی کی ایک خرابی کے دور کرنے کے لیے نہیں آیا کرتے۔لیکن اگر یہ بات درست ثابت ہو تو چلو میں پھر بھی مان لوں گا مگر