خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 411

$1944 411 خطبات محمود یہ بات درست نہیں ہے۔بہاء اللہ نے ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے۔اس انگریز عورت نے اس کا بشدت انکار کیا۔لیکن آخر جب میں نے اُسے مجبور کیا کہ اپنے ساتھ کی عورت سے جو ایرانن تھی اور چھ ماہ کے قریب مرزا عباس علی کے پاس رہ آئی تھی، اس بارہ می میں پوچھے تو اول تو اُس ایران عورت نے جو خود بھی پکی بہائی تھی جواب دینے سے انکار کیا لیکن آخر مجبور کرنے پر کہا دو شادیوں کا ذکر تو آتا ہے مگر بہاء اللہ نے لکھا ہے کہ میرے کلام کی جو تشریح مرزا عباس علی کریں وہی درست ہو سکتی ہے اور انہوں نے یہی تشریح کی ہے کہ ایک ہی شادی کرنی چاہیے اس پر اس انگریز عورت نے کہا کہ دیکھیے بات حل ہو گئی۔میں نے کہا اول تو یہ غلط ہے کہ دو کا مطلب ایک ہو سکتا ہے۔لیکن اگر یہی مطلب ہے تو پھر اس سے پوچھو کہ کیا وجہ ہے کہ بہاء اللہ نے خود بھی دو شادیاں کیں۔اِس سوال پر اُس ایر ان عورت نے پھر عذر معذرت شروع کی۔مگر آخر کہنے لگی ہاں! دو شادیاں کی تھیں۔مگر دعوی کے بعد ایک بیوی کو انہوں نے بہن قرار دے دیا تھا۔اس پر پھر اُس انگریز عورت نے خوشی کا اظہار کیا۔لیکن میں نے کہا تمہارا عقیدہ ہے کہ امام کو دعوی سے پہلے بھی ہر بات کا علم ہوتا ہے۔اگر بہاء اللہ کو یہ علم تھا کہ مجھے بیوی کو بہن قرار دینا پڑے گا تو انہوں نے دوسری شادی کیوں کی ؟ مگر وہ انگریز مصر رہی کہ بس! یہ جواب کافی ہے۔اس پر میں نے اُسے کہا کہ اپنی بہائی بہن سے جو ایرانن ہے پوچھو کہ کیا اس بہن کے بطن سے بہاء اللہ کے ہاں اولاد بھی ہوئی تھی یا نہیں؟ اس پر وہ کہنے لگی آپ تو گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔میں نے کہا یہ گالیاں نہیں بلکہ میں حقیقت ہے۔تم اس بہائی بہن سے پوچھو کہ کیا دعوی کے بعد بہاء اللہ کے ہاں اس دوسری عورت سے اولاد ہوئی یا نہیں؟ اس دفعہ اُس ایران نے دیر تک جواب دینے سے انکار کیا۔مگر آخر تسلیم کر لیا کہ دوسری بیوی سے دعوی کے بعد بھی ان کے ہاں اولاد ہوئی تھی۔جس پر وہ ہے انگریز عورت غصہ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔میں نے کہا بہاء اللہ کو ہم اسی صورت میں مان سکتے تھے کہ قرآن کریم کے ساتھ ہماری دینی ضروریات پوری نہ ہو سکتیں اور بہاء اللہ وہ ضرورت پوری کر دیتے۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور اُدھر کوئی ایسی ضرورت بھی نہیں ہے جسے اسلامی شریعت پوری نہ کر سکے تو پھر ان کو ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔