خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 372

خطبات محمود 372 $1944 میں نہیں جانتا میر ابھائی کون ہے اور پھر اپنے حواریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے ہیں میرے باپ، یہ ہیں میرے بھائی اور یہ ہے میری ماں۔یہ وہ ایمان ہے جس کا حضرت مسیح ناصری نے اظہار کیا اور یہی وہ ایمان ہے جس کے بعد انسان کی قربانی کر سکتا ہے۔جب ہم اس چیز کو تسلیم کر لیتے ہیں تو ہمارے لیے پہلی دفعہ قربانی کا راستہ کھلنا شروع ہوتا ہے اور پھر جوں جوں ہم اخلاص دکھاتے ہیں یہ راستہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر ہوشیار کر دیتا ہوں کہ وہ وقف کی حقیقت سمجھیں۔ممکن ہے وہ کہہ دیں کہ ایسی باتوں کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ قربانی کے لیے آگے نہیں آئیں گے۔مگر میں کہتا ہوں وہ می لوگ جو اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے، وہ لوگ جو وقف کی حقیقت سے غافل ہیں ، وہ لوگ جو نام پیش کرتے وقت تو سب سے آگے آجاتے ہیں مگر جب قربانیوں کے لیے بلایا جاتا ہے تو اُن کا قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی مجھے قطعاً ضرورت نہیں۔وہ ایک شکست خوردہ اور ماری ہوئی قوم ہیں۔مجھے ایسے لوگوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اگر جماعت میں ایسے ہی لوگ ہے ہیں جو اپنے نام پیش کرنے کے لیے تو تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر سلسلہ ان سے کام لیتا ہے یا ا سلسلہ اُن کو ڈانٹتا ہے تو وہ اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں تو میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں ہے تمہیں سات سلام، تم مردہ ہو تم کسی کام کے اہل نہیں۔تم اپنے گھر بیٹھو میں اپنے گھر میں ہے خوش ہوں۔وہی جماعتیں دنیا میں کام کر سکتی ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہیں اور می اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے وہ جان دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ فرانس کا ایک مشہور واقعہ ہے۔نہ معلوم وہ ہے تاریخی واقعہ ہے یا کہانی۔بہر حال ایک مؤرخ جو کہانیوں کے رنگ میں واقعات لکھنے کا عادی ہے اُس نے لکھا ہے کہ فرانس کے یورپین خاندان کے خلاف جب بغاوت ہوئی اور لوگوں نے اس خاندان کو اپنے ملک سے نکال دیا تو وہ خاندان فرانس سے نکل کر انگلستان چلا آیا۔کچھ عرصہ کے بعد بادشاہت کے مدعی نے انگلستان سے ایک مختصر سا دستہ فرانس بھجوایا تا کہ وہ دوبارہ بغاوت پیدا کر کے اس کی بادشاہت کے لیے راستہ تیار کرے۔جس جہاز میں یہ جماعت سوار تھی اسی جہاز میں ایک اور شخص بھی سوار تھا۔مگر سپاہیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ متنی