خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 371

$1944 371 خطبات محمود کے لیے قطعا تیار نہیں ہوں گے۔ہاں! اگر کوئی باپ اپنے بچے کی شادی کے متعلق کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو گو اِس صورت میں بھی سلسلہ ہی اُس کا باپ ہے اور سلسلہ ہی اس کی ماں۔مگر چونکہ جسمانی رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا اس لیے ایسے امور جو وقف سے تعلق نہیں رکھتے ان کے متعلق ہم ان کی بات سن بھی سکتے ہیں۔مثلاً وہ کہہ سکتا ہے کہ لڑکا جوان ہے اس کی شادی کا انتظام کیا جائے۔لیکن اگر وہ کوئی ایسی بات کہے گا جو وقف سے تعلق رکھتی ہو گی مثلاً وہ یہ لکھے گا کہ اسے فلاں جگہ مقرر کیا جائے یا اُس کی تعلیم کے متعلق کوئی بات لکھے گا یا اُس کے کام کے متعلق کوئی بات لکھے گا یا جس ملک میں تبلیغ کے لیے اُسے بھجوانے کا ارادہ ہو اُس کے متعلق وہ بات لکھے گا یا اُس کے گزارہ کے متعلق کوئی بات لکھے گا تو ہمارا ایک ہی جواب ہو گا کہ ہم اس کے رقعہ کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔چاہے اُس کے نزدیک اس رقعہ میں کتنی ہی اہم باتیں کیوں ہے نہ لکھی ہوں۔کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ان معاملات میں وہ باپ رہ گیا ہے یاماں رہ گئی ہے یا بھائی رہ گیا ہے یا بہن رہ گئی ہے۔ان کا باپ بھی سلسلہ ہے، ان کی ماں بھی سلسلہ ہے، ان کی جی بہن بھی سلسلہ ہے اور ان کا بھائی بھی سلسلہ ہے۔بلکہ اگر ان کے لڑکے کو یہ پتہ لگ جائے کہ میری ماں یا میرا باپ میرے کام کے متعلق یا ان ذمہ داریوں کے متعلق جو تحریک جدید کی میں طرف سے مجھ پر عائد کی گئی ہیں کوئی رقعہ لکھنے والے ہیں تو ایسی صورت میں اگر وہ لڑکا اپنے باپ یا اپنی ماں پر ناراضگی کا اظہار نہ کرے تو ہم اس کے متعلق بھی یہی سمجھیں گے کہ وہ اپنے مین وقف میں ثابت قدم نہیں۔اسے صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ تم میرے ماں باپ نہیں ہو۔جب تم نے مجھے وقف کر دیا، جب تم نے مجھے سلسلہ کے سپرد کر دیا تو اب صرف میری شخصیت کا سوال رہ سکتا ہے۔وہ جہاں تک کام کا تعلق ہے، جہاں تک جسم کا تعلق ہے، جہاں تک تقریر کا تعلق ہے میرا باپ بھی سلسلہ ہے، میری ماں بھی سلسلہ ہے، میری بہن بھی سلسلہ ہے اور میر ابھائی بھی سلسلہ ہے۔حضرت مسیح ناصری نے کیا ہی عمدہ اور لطیف بات کہی۔ایک دفعہ ان کی ماں اور ان کے بھائی ان سے ملنے کے لیے آئے مگر چونکہ وہ اُس وقت سلسلہ کا کام کر رہے تھے اس لیے انہوں نے کہا میں نہیں جانتا میراباپ کون ہے، میں نہیں جانتا میری ماں کون ہے ، می